فلاح انسانیت
Urdu book, p. 303
By Maulana Wahiduddin Khan
گمان نہ کرنا حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ تم گمان سے بچو کیوں کہ گمان سب سے بڑا جھوٹ ہے (عن ابی ھریرة ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال اياكم والظن فان الظن اكذب الحديث) صحيح مسلم، كتاب البر والصلة والادب اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ناقص اور ادھوری معلومات کی بنا پر ایک مرد یا عورت کو دوسرے مرد یا عورت کے بارے میں بدگمانی ہو جاتی ہے ۔ اس قسم کے مواقع پر یہ بے حد غیر ذمہ داری کی بات ہے کہ جو برا خیال دل میں آئے اس پر یقین کر لیا جائے اور اس کے مطابق مذکورہ فرد کو برا سمجھا جانے لگے ۔ اس قسم کی بدگمانی اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک جھوٹ ہے۔ اس لیے کہ آپ نے معاملے کے سارے پہلوؤں کو جانے بغیر محض ناقص معلومات کی بنیاد پر کسی کے بارے میں ایسی رائے قائم کر لی جو واقعہ کے مطابق نہ تھی ۔ جس طرح واقعہ کے خلاف بات کہنا جھوٹ ہے ، اسی طرح واقعہ کے خلاف رائے بنانا بھی بلاشبہ جھوٹ ہے۔ صحیح انسان وہ ہے جس کا حال یہ ہو کہ جب اس کے سامنے گمان والی کوئی بات آئے تو وہ رائے قائم کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کرے ۔ وہ معاملہ کے تمام متعلق پہلوؤں کو جانے کے بعد کوئی رائے بنائے ۔ تحقیق کے بغیر رائے قائم کرنا، جھوٹی رائے قائم کرنا ہے۔ اور تحقیق کے بعد رائے قائم کرنا، سچی رائے قائم کرنا ہے ۔ اگر کسی کے پاس اتنا وقت نہ ہو کہ وہ معاملہ کی پوری تحقیق کرے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس معاملہ میں خاموش رہے ، وہ کسی کی بابت کسی بھی قسم کی کوئی رائے نہ بنائے ۔ حدیث کے مطابق کسی انسان کے لیے جس طرح بولنا ایک کام ہے اسی طرح چپ رہنا بھی اس کے لیے ایک کام ہے۔ بولنا صرف اس شخص کے لیے جائز ہے جو بولنے کے تقاضے پورے کرے۔ جو آدمی بولنے کے تقاضے پورے نہ کر سکے اس کے لیے یہاں چپ رہنا ہے نہ کہ غیر ضروری طور پر بولنا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader