فلاح انسانیت
Urdu book, p. 304
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقی شخصیت حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ـــــ خدا تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے (عن ابی هریرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ۔ انّ الله لا ينظر الى صوركم واموالكم ولكن ينظر الى قلوبكم و اعمالكم) صحیح مسلم ، کتاب البر والصلة والادب فطرت کے نقشہ میں کون انسان اہم ہے اور کون انسان غیر اہم ، جواب یہ ہے کہ جو انسان اپنی داخلی شخصیت کے اعتبار سے اچھا ہے وہی حقیقی معنوں میں اچھا انسان ہے۔ اور جو آدمی اپنی داخلی شخصیت کے اعتبار سے برا ہو وہ حقیقت کی نگاہ میں برا ہے خواہ ظاہری طور پر اس نے کتنا ہی خوش نما لباس کیوں نہ پہن رکھا ہو۔ ایک ظاہر وہ ہے جو لباس اور آرائش کے ذریعہ بنایا جاتا ہے ۔ اسی کے ساتھ ایک اور ظاہر ہے جو پروپیگنڈہ کے ذریعہ بنتا ہے ۔ دونوں ہی قسم کے ظاہر حقیقت کی نظر میں بے قیمت ہیں ۔ جو لوگ اس قسم کے ظواہر پر کھڑے ہوں وہ اپنے لیے بھی بے فائدہ ہیں اور سماج کے لیے بھی بے فائدہ ۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کے اندر اعلیٰ انسانی صفات پائی جائیں ، جو ایک اصول پسند انسان ہو ، جو اخلاقی قدروں کو اپناتے ہوئے ہو ، جس کے دماغ میں مثبت سوچ ہو اور جس کے دل میں مثبت جذبات بھرے ہوئے ہوں ۔ ایسا انسان فطرت کا مطلوب انسان ہے ۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو کسی سماج کو حقیقی معنوں میں کامیاب سماج بناتے ہیں۔ آدمی اگر اندر سے خالی ہو اور صرف ظاہری طور پر وہ اپنے آپ کو خوشنما بنالے تو اس سے صالح اعمال کا صدور نہیں ہو سکتا ۔ وہ دیکھنے میں اچھا ہوگا مگر برتے میں برا ۔ صالح اعمال کا صدور صرف اس انسانی شخصیت سے ہوتا ہے جس کا اندرونی وجود بھی صالح اور پاک ہو۔ عمل سے خالی انسان گویا کہ صرف ایک اسٹیجو ہے۔ سچا انسان صرف وہ ہے جو عمل کے وقت عمل کا ثبوت دے سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader