فلاح انسانیت
Urdu book, p. 305
By Maulana Wahiduddin Khan
غیبت اور بہتان حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ خدا اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرو جو اس کو ناپسند ہو۔ کہا گیا اے خدا کے رسول، اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جس کا میں نے ذکر کیا ؟ آپ نے فرمایا: اگر اس کے اندر وہ عیب ہے جو تم کہہ رہے ہو، تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ عیب اس میں نہیں ہے تو تم نے اس کے اوپر الزام لگایا (عن ابي هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال اتدرون ما الغيبة قالوا الله ورسوله اعلم قال ذكرك اخاك بما يكره قيل افرأيت إن كان في اخي ما اقول ان كان فيه ما تقول فقد اغتبته وإن لم يكن فيه فقد بهتہ) صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والادب ۔ صحت مند معاشرہ کے لیے جو چیزیں ضروری ہیں ان میں سے ایک اہم چیز یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی خوبیوں کا تو خوب چرچا کریں۔ لیکن وہ ایک دوسرے کی کمیوں اور برائیوں کا چرچا کرنے سے پرہیز کریں۔ خوبیوں کا چرچا کرنے سے معاشرہ میں مثبت قدروں کو فروغ ملتا ہے۔ اس کے برعکس اگر لوگوں کی برائیوں اور کمزوریوں کا چرچا کیا جانے لگے تو معاشرہ میں منفی قدروں کی حوصلہ افزائی ہونے لگے گی۔ لوگوں کے شخصی عیوب کے چرچا کرنے کا نام غیبت ہے۔ اگر آپ کسی کے اندر کوئی شخصی عیب دیکھیں تو آپ کو چاہیے کہ اس سے مل کر تنہائی میں اس کو نصیحت کریں۔ لیکن مجلسوں میں اس کا چرچا کرنا سخت قابل اعتراض بات ہے ۔ اس سے بھی نہ زیادہ سنگین برائی یہ ہے کہ آپ کسی کے بارے میں وہ بات کہیں جو اس کے اندر سرے سے موجود نہیں۔ اس قسم کے عمل کا نام الزام تراشی یا بہتان ہے۔ یہ بلا شبہ بہت بڑا جرم ہے۔ کسی پر بے بنیاد الزام لگاتے ہوئے آدمی کو سوچنا چاہیے کہ یہ ایک دو طرفہ معاملہ ہے ۔ یعنی وہ الزام اگر فریق ثانی پر نہیں لگتا تو وہ خود کہنے والے کی طرف لوٹ جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader