Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 306

By Maulana Wahiduddin Khan

نرم سلوک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص نرمی سے محروم رہا وہ بھلائی سے بھی محروم رہے گا (عن جریر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال من یحرم الرفق يحرم الخين) ایک اور حدیث میں اس طرح آیا ہے کہ حضرت عائشہ رض سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے عائشہ ! اللہ نرم ہے اور وہ نرمی کو پسند کرتا ہے اور وہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جس کو وہ سختی پر نہیں دیتا اور نہ کسی اور چیز پر دیتا ہے (عن عائشة زوج النبی صلی الله علیه وسلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يا عائشة إنّ الله رفيق يُحِبُّ الرفق ويعطى على الرفق ما لا يعطى على العنف وما لا يعطى على سواه) صحیح مسلم، کتاب البرّ الصلة والادب ۔ نرمی انسان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ نرمی کے ذریعہ لوگوں کے دل جیتے جا سکتے ہیں۔ اور جب لوگوں کے دل جیت لیے جائیں تو اس کے بعد جیتنے کے لیے کوئی اور چیز باقی نہیں رہتی۔ آپ جب لوگوں کے درمیان نرمی سے بولیں اور ان سے نرمی کا معاملہ کریں تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے دل میں آپ کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ وہ آپ کی عزت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ماحول کے اندر ایک ایسی فضا بنتی ہے جو ہر لحاظ سے آپ کے حق میں ہوتی ہے۔ آپ کسی خارجی رکاوٹ کے بغیر اپنا ہر کام انجام دینے میں کامیاب رہتے ہیں۔ اس کے برعکس جب آپ لوگوں سے سخت انداز میں بات کریں اور لوگوں سے معاملہ کرنے میں سختی کا رویہ اپنائیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پورے ماحول میں آپ کے خلاف فضا پیدا ہو جائے گی۔ لوگ آپ کو دشمن کی نظر سے دیکھنے لگیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آپ جو کام بھی کرنا چاہیں گے اس میں آپ کے لیے خارجی رکاوٹیں کھڑی ہو جائیں گی۔ ماحول کے غیر ہمدردانہ رویہ کی وجہ سے آپ کا آسان کام بھی مشکل کام بن جائے گا۔ اس دنیا میں نرمی کا کوئی بدل نہیں۔ کوئی بھی دوسری ایسی چیز نہیں جو نرمی کی کمی کی تلافی کرے۔ نرم سلوک والا آدمی اپنے ماحول میں اس طرح رہتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ پھول جیسا سلوک کرتے ہیں۔ اور سخت آدمی اپنے ماحول میں اس طرح رہنے پر مجبور ہو جاتا ہے جیسے کہ وہ کانٹوں کے درمیان رہ رہا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page