Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 307

By Maulana Wahiduddin Khan

آغاز نہیں حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ دو گالی دینے والے جو کچھ کہیں تو وہ اس پر ہے جس نے شروع کیا جب تک کہ مظلوم نہ زیادتی نہ کرے ( عن ابی هريرة ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال المسبتان ما قالا فعلی البادی منهما ما لم يعتد المظلوم) سنن ابی داؤد، کتاب الادب یہ دنیا خدا کے بنائے ہوئے ایک فطری نظام پر قائم ہے۔ وہ فطری نظام یہ ہے کہ کوئی کسی کے اوپر زیادتی نہ کرے۔ ہر ایک اپنے دائرہ میں عمل کرنے کے لیے آزاد ہے۔ لیکن کسی کو بھی یہ آزادی نہیں کہ وہ دوسرے کے دائرہ میں داخل ہو جائے ۔ دو آدمی اگر ایک دوسرے کو گالی دینے لگیں تو یہ دیکھا جائے گا کہ دونوں میں سے وہ کون شخص ہے جس نے یہ برا کام شروع کیا تھا ، جس نے گالی دینے میں پہل کی تھی وہی اس برائی کا اصل مجرم ہے۔ حتی کہ دوسرے شخص نے اگر برابر کے درجہ میں دفاع کیا تھا تو وہ بری الذمہ قرار پائے گا اور دونوں ہی کی گالی کا گناہ ابتدا کرنے والے کے حساب میں لکھ دیا جائے گا۔ البتہ اگر دفاع کرنے والا برابر کا دفاع نہ کرے بلکہ وہ زیادتی کر بیٹھے، مثلاً پہلے شخص نے اگر صرف گالی دی تھی تو دوسرا شخص پتھر مار دے ۔ ایسی حالت میں ساری ذمہ داری مظلوم کے اوپر چلی جائے گی ۔ کیوں کہ اس نے برابر کا دفاع نہیں کیا بلکہ دفاع کی حد سے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو مزید زیادتی کا ملزم بنا لیا۔ اجتماعی زندگی کے لیے یہی فطرت کا قانون ہے۔ خدا نے انسان کو ایسی ساخت کے ساتھ پیدا کیا ہے کہ وہ اپنے آپ فطرت کے اس قانون کی پیروی کرتا ہے ۔ فطرت ہر انسان کی سب سے بڑی رہنما ہے۔ اگر انسان کو منحرف نہ کیا جائے تو وہ خود اپنے اندرونی تقاضے کے تحت فطرت کی شاہراہ پر چلتا رہے گا ۔ مجرم وہ ہے جو فطرت کے اس نقشہ میں خلل ڈالے ۔ یہی وجہ ہے کہ فطرت کے قانون میں ، پہل کرنے والے کو سب سے بڑا مجرم بتایا گیا ہے یہ یہاں تک کہ دفاع کرنے والے کے دفاع کو بھی اسی کے خانہ میں ڈال دیا گیا ہے۔ جو زیادتی کا آغاز کرے وہی پورے معاملہ کا ذمہ دار ہے، خواہ اس نے پہلے زیادتی کی ہو یا وہ بعد کو زیادتی کرنے والا بن جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page