Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 308

By Maulana Wahiduddin Khan

رحمت کا معاملہ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا گیا کہ اے خدا کے رسول آپ مشرکوں کے خلاف بد دعا کیجیے ۔ آپ نے فرمایا۔ میں اس لیے نہیں بھیجا گیا ہوں کہ لوگوں پر لعنت کروں۔ بلکہ میں رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں (عن ابی هریرة قال قیل یا رسول الله ادعُ عَلَى المشركين قال إنى لم أبعث لعاناً وإنما بعثتُ رحمةً) صحيح مسلم، كتاب البر والصلة والادب ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں جب لوگوں کو ایک خدا کا پرستار بننے کی طرف بلایا تو وہ آپ کے دشمن ہو گئے اور وہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ستانے لگے۔ آپ کے ساتھیوں نے چاہا کہ لوگوں کے خلاف بد دعا کی جائے مگر پیغمبر اسلام نے اس کو پسند نہیں فرمایا۔ سچا مصلح وہ ہے جو ہر حال میں مثبت طرز فکر پر قائم رہے، وہ کسی حال میں بھی منفی ذہنیت میں مبتلا نہ ہو۔ یہی مصلح کا کردار ہے۔ وہی انسان سماجی اصلاح کا کام کر سکتا ہے جس کا سینہ اتنا کشادہ ہو کہ وہ ہر حال میں لوگوں کا خیر خواہ بنا رہے۔ لوگوں کے حق میں اس کی رحمت و شفقت کسی حال میں ختم نہ ہونے پائے۔ دوسروں کے رویہ کی پروا کیے بغیر وہ اپنے اصلاحی مشن پر قائم رہے۔ اگر ایک شخص آپ کے خلاف زیادتی کرے تو آپ کے لیے کرنے کا یہی ایک کام نہیں ہے کہ آپ اس سے متنفر ہو جائیں اور اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں۔ آپ کے لیے اس سے بھی زیادہ بڑا ایک اور کام ہے۔ اور وہ یہ کہ آپ یک طرفہ طور پر اس کی اصلاح کی خواہش مند بنے رہیں ۔ آپ دل سے اس کی بہتری چاہیں۔ اس کو متاثر کرنے کی ضروری تدبیریں کریں ، اس کے حق میں خدا سے اچھی دعائیں کریں یہ بھی ایک عمل ہے، یہ بھی ایک تدبیر ہے، بلکہ وہ ایسے موقع کے لیے زیادہ اچھی تدبیر ہے۔ بہتر معاشرہ وہ ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کے سچے خیر خواہ ہوں۔ ان کا خیر خواہی کا جذبہ اتنا طاقتور ہو کہ وہ ہر حال میں باقی رہے۔ دوسروں کا مخالفانہ رویہ بھی اس کو متزلزل نہ کر سکے۔ جو لوگ اپنے سینہ میں اس قسم کی خیر خواہی کی پرورش کریں وہ خود اپنی انسانیت کو بلند کر رہے ہیں۔ یہ خیر خواہی اس بات کی ضامن ہے کہ سماج کبھی بگاڑ کا شکار نہ ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page