فلاح انسانیت
Urdu book, p. 309
By Maulana Wahiduddin Khan
یکساں کردار حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ برا وہ ہے جو دو چہرے والا ہے۔ جو کچھ لوگوں کے سامنے ایک چہرہ کے ساتھ آتا ہے اور کچھ لوگوں کے سامنے دوسرے چہرہ کے ساتھ (عن ابی ھریرة ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال إنّ من شر النّاس ذَا الوجهين الذى يأتي هؤلاء بوجه و هؤلاء بوجه) صحیح مسلم سچا انسان وہ ہے جس کے قول اور کردار میں یکسانیت ہو، جو وہی کہے جو اس کو کرنا ہے۔ اور وہی کرے جو اس نے اپنی زبان سے کہا ہے۔ یہی با اصول انسان کا معاملہ ہے۔ با اصول انسان وہ ہے جس کی روش کچھ پختہ اصولوں پر مبنی ہو۔ ایسا آدمی ہمیشہ یکساں کردار کا حامل ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس جو آدمی حالات کو دیکھ کر اپنا رویہ متعین کرے ، اس کے کردار میں یکسانیت نہیں ہوگی۔ وہ کچھ لوگوں کے سامنے ان کی رعایت سے ایک کردار اپنائے گا۔ اور جب وہ دوسری قسم کے لوگوں کے سامنے آئے گا تو ان کی رعایت سے وہ دوسرے کردار کا مظاہرہ کرنے لگے گا۔ دہرا کردار انسانیت کی توہین ہے۔ دہرا کردار اختیار کر کے آدمی جو فائدہ حاصل کرتا ہے وہ ایک عظیم تر نقصان کی قیمت پر ہوتا ہے ۔ وہ نقصان یہ ہے کہ اس کا ضمیر مُردہ ہو جائے، اس کے اندر روحانی ارتقار کا عمل جاری نہ ہو سکے۔ فطرت کے نقشہ میں اعلیٰ انسان وہ ہے جو معلوم کردار کا حامل ہو، جس کے بارے میں پیشگی طور پر یہ اندازہ کیا جاسکے کسی صورت حال میں وہ کس قسم کے کردار کا ثبوت دے گا۔ خدا کی کائنات میں ہر چیز قابل پیشین گوئی کردار کی حامل ہے۔ آسمان کے ستاروں سے لے کر زمین کے درختوں اور پودوں تک کا یہ حال ہے کہ آپ پیشگی طور پر ان کے سلوک کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ فطرت کا یہی نظام انسان سے بھی مطلوب ہے۔ سچا انسان وہ ہے جس کے بارے میں آپ پیشگی طور پر یہ یقین کرسکیں کہ اس سے جو امید کی جائے گی اس کو بہر حال وہ پورا کرے گا، وہ کبھی اس سے پیچھے ہٹنے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader