Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 310

By Maulana Wahiduddin Khan

بہادر کون حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طاقتور وہ نہیں ہے جو کشتی میں پچھاڑ دے، طاقتور وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے (عن ابي هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ليس الشديد بالصرعة إنما الشديد الذى يملك نفسه عند الغضب) صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والادب ۔ فطرت کے نقشہ میں طاقت کا معیار خارجی نہیں ہے بلکہ داخلی ہے۔ کوئی شخص خارجی دنیا میں بڑے بڑے واقعات ظہور میں لائے، مثلاً وہ لڑائی میں کسی کو ہرادے، تو فطرت کے نزدیک یہ کوئی بڑا واقعہ نہیں ہے۔ زیادہ بڑا واقعہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو قابو میں رکھے، ہیجان خیز لمحات میں بھی وہ اخلاق اور شرافت کی حد سے باہر نہ جائے۔ کوئی معاشرہ اچھا معاشرہ کب بنتا ہے، اس کا معیار یہ نہیں ہے کہ معاشرہ میں ایسے بہت سے زور آور موجود ہوں جو لڑائی کے موقع پر دوسروں کو پچھاڑ دیا کریں۔ اس قسم کی پہلوانی کسی کو شخصی ہیرو بنا سکتی ہے مگر ایسی پہلوانی کرنے والے کبھی کوئی اچھا سماج نہیں بنا سکتے۔ اچھا سماج وہ لوگ بناتے ہیں جو خود اپنے آپ کو زیر کرنے والے ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں کسی کے خلاف غصہ آتا ہے تو وہ دوسرے پر طاقت آزمائی کرنے کے بجائے خود اپنی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں، وہ اپنے بھڑکے ہوئے جذبات کو دباتے ہیں، وہ اپنے اندر ابھرنے والی انتقامی نفسیات کو کچلتے ہیں، وہ اپنے اندر پیدا ہونے والی منفی سوچ کو دوبارہ مثبت رخ کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ وہ معاف کرنے کے بہادر ہوتے ہیں نہ کہ بدلہ لینے یا سبق سکھانے کے بہادر۔ دوسرے کو پچھاڑنے کی طاقت حیوان میں بھی ہوتی ہے۔ مگر یہ صرف انسان ہے جو اپنے آپ کو پچھاڑنے کا کارنامہ انجام دیتا ہے۔ انسان کی بہادری کو ناپنے کا پیمانہ یہی انسانی اخلاق ہے نہ کہ عام حیوانی اخلاق۔ یہ اخلاقی بہادری ہے۔ اور اخلاقی بہادری سے زیادہ بڑی بہادری اور کوئی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page