فلاح انسانیت
Urdu book, p. 311
By Maulana Wahiduddin Khan
انسانی ہمدردی حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بھلائی کے کسی کام کو کم نہ سمجھو، خواہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ کشادہ پیشانی سے ملنا ہی کیوں نہ ہو۔(عن ابی ذرٍ قال قال لى النبي صلى الله عليه وسلم لا تحقرنَّ من المعروف شيئاً ولو ان تلقى اخاك بوجه كريم) صحیح مسلم ،کتاب البروالصلة والادب۔ بہتر سماج بہتر انسانوں سے بنتا ہے، اور بہتر انسان وہ ہے جو نفع بخش انسان ہو، جو اس طرح دنیا میں زندگی گزارے کہ وہ دوسروں کو دینے والا بنا ہوا ہو۔ اس کے پاس دوسروں کو دینے کے لیے اگر کوئی بڑی چیز ہو تو وہ انھیں بڑی چیز دے۔ اور اگر اس کے پاس دینے کے لیے کوئی بڑی چیز نہیں ہے تو وہ وہی چیز دے جو اس کے پاس موجود ہے۔ انسانیت کا خلاصہ خیر خواہی ہے۔ ایک انسان کے دل میں دوسرے انسان کے لیے ہمدردی اور خیر خواہی کا جذبہ ہو، یہی انسانیت کا اصل معیار ہے۔ جو انسان اپنے دوسرے بھائیوں کے لیے اچھے جذبات سے خالی ہو وہ انسان ہی نہیں۔ وہ شکل کے اعتبار سے انسان ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے غیر انسان۔ جو انسان اپنے سینے میں دوسرے انسانوں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ لیے ہوئے ہو اس کا اظہار ہر لمحہ اور ہر موقع پر ہو تا رہے گا، حتی کہ جس وقت بظاہر وہ انسانوں کے درمیان نہیں ہوگا تب بھی اس کے سینے میں دوسروں کے لیے فکرمندی ہوگی، تب بھی وہ دوسروں کے لیے اچھی دعائیں کر رہا ہوگا۔ ایسا انسان جب دوسروں سے ملے گا تو اس کے دل کی خیر خواہی خندہ پیشانی کی صورت میں اس کے چہرہ پر ظاہر ہو جائے گی۔ وہ راستہ میں کوئی رکاوٹ دیکھے گا تو اس کو ہٹا دے گا تا کہ کسی چلنے والے کو تکلیف نہ ہو، وہ کسی کو زخمی دیکھے گا تو اس کے علاج کی فکر کرے گا، وہ کسی کو ضرورت مند پائے گا تو وہ اپنی جیب سے اس کے اوپر خرچ کرے گا۔ سچا انسان اسی طرح نفع بخش بن کر جیتا ہے۔ وہ یک طرفہ طور پر دوسروں کو فائدہ پہنچاتا ہے، خواہ دوسروں کی طرف سے اس کو کچھ بھی ملنے والا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader