فلاح انسانیت
Urdu book, p. 312
By Maulana Wahiduddin Khan
مقام عمل حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے عقبہ بن عامر نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول " نجات کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنی زبان کو قابو میں رکھو اور اپنے گھر کو اپنے لیے کافی سمجھو اور اپنی خطاؤں پر روؤ ( عن عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ قال قلت يا رسول الله ما النجاة؟ قال: امسك عليك لسانك و ليسعك بيتك و ابك على خطيئتك) ریاض الصالحین، باب فی تحریم الغیبتہ والامر بحفظ اللسان، صفحہ ۳۱۷ زندگی کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی کام اس کو سمجھے کہ وہ دوسروں کے مسائل پر کلام کرے ، وہ خارجی دنیا میں اپنا مقام بنانے کی کوشش کرے ، وہ دوسروں کی کمیوں اور کوتاہیوں میں الجھا ہوا ہو۔ یہ سب اپنے کام کے میدان کو اپنے سے باہر سمجھنا ہے ، اور اپنی ذات سے باہر کام کا میدان بنانا فطرت کے نقشہ کے مطابق نہیں۔ زیادہ صحیح اور فطری بات یہ ہے کہ آدمی خود اپنی ذات کو اپنے کام کا میدان بنائے ہوئے ہو ، وہ بولنے سے زیادہ سوچے ۔ دور کے میدان کے بجائے وہ اپنے قریب کے دائرہ میں اپنی سرگرمیاں جاری کیے ہوئے ہو۔ دوسروں کی غلطیوں اور زیادتیوں کا چرچا کرنے کے بجائے وہ خود اپنے محاسبہ میں لگا ہوا ہو۔ محاسبہ خویش کا یہ عمل وہ اتنی شدت کے ساتھ کرے کہ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑیں۔ کامیابی کا دارو مدار اسی کے اوپر ہے ، آدمی کی اپنی ذات پوری طرح اس کے قابو میں ہوتی ہے ، جبکہ باہر کی دنیا اس کے اپنے قابو میں نہیں۔ اپنے ذاتی دائرہ میں کی جانے والی ہر کوشش نتیجہ خیز ہوتی ہے ، جبکہ باہر کے دائرہ میں کی جانے والی کوشش کا نتیجہ خیز ہونا یقینی نہیں۔ اپنی ذات کے دائرہ میں عمل کرنے کا پہلا یقینی فائدہ یہ ہے کہ اس کوشش کا کوئی ادنی جز بھی بے نتیجہ نہیں رہتا۔ وہ ہر حال میں نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے ، خواہ یہ نتیجہ کوشش کرنے والے کو نفسیات کی سطح پر ملے یا مادی اور عملی سطح پر۔ مزید یہ کہ یہی وہ طریقہ ہے جو خود خارجی اعتبار سے بھی مفید ہے۔ اجتماعی زندگی افراد ہی کے مجموعہ کا نام ہے۔ افراد کا معاملہ اگر درست ہو جائے تو اس کے بعد اجتماع کا معاملہ اپنے آپ درست ہو کر رہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader