فلاح انسانیت
Urdu book, p. 313
By Maulana Wahiduddin Khan
حسد کی آگ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ حسد سے بچو، کیوں کہ حسد نیکیوں کو اسی طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے (عن ابی ہریرۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال اياكم والحسد فان الحسد يا كل الحسنات كما تأکل النار الحطب) سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی الحسد۔ حسد یہ ہے کہ آپ جب کسی کو کسی اعتبار سے اپنے سے بڑا دیکھیں تو آپ اس کی بڑائی پر خوش نہ ہوں بلکہ اپنے دل میں اس کے خلاف جلن محسوس کریں۔ اسی کا نام حسد ہے۔ حسد کرنے والا بظاہر دوسرے کے خلاف حسد کرتا ہے، لیکن اس کا نقصان سب سے پہلے خود حسد کرنے والے کو بھگتنا پڑتا ہے۔ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں کبھی بھی تمام لوگ یکساں نہیں ہو سکتے۔ یہاں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔ ایسی حالت میں جو آدمی کسی کی بڑائی کو دیکھ کر حسد میں مبتلا ہو وہ گویا فطرت سے لڑنا چاہتا ہے، اور فطرت سے لڑکر کبھی کوئی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں ترقی کا راز یہ ہے کہ آدمی کی سوچ مثبت سوچ ہو، وہ منفی سوچ سے اپنے آپ کو بچائے ہوئے ہو۔ مگر حسد ثبت نفسیات کا قاتل ہے۔ جو آدمی حسد میں مبتلا ہو جائے، اس نے گویا اپنے سینہ کو منفی جذبات کی پرورش گاہ بنا لیا، اس نے اپنی ترقی کا دروازہ خود اپنے ہاتھوں سے بند کر لیا۔ سماج میں کوئی آپ کے نیچے ہوتا ہے اور کوئی آپ سے اوپر۔ ایسی حالت میں صحیح روش یہ ہے کہ جب آپ کسی کو اپنے سے کم دیکھیں تو آپ کے اندر اس کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا ہو، اور جب آپ کسی کو اپنے سے زیادہ دیکھیں تو آپ کسی جلن کے بغیر یہ سوچیں کہ وہ بھی انسان ہے اور میں بھی انسان ہوں۔ اگر اس نے اپنی انسانی صلاحیتوں کا استعمال کر کے بڑی ترقی حاصل کر لی تو یہی چیز میرے لیے بھی ممکن ہے ۔ اسی کا نام مثبت سوچ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader