Urdu book · اسلام ایک تعارف

فلاح انسانیت

Urdu book, p. 314

By Maulana Wahiduddin Khan

عفو و درگزر حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ــــ معافی اور درگزر سے صرف انسان کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے۔ پس اے لوگو! تم عفو و درگزر سے کام لو خدا تمہاری عزت کو بڑھائے گا (عن ابی سعيد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما ان داد احدُ بعفوٍ الا عِزّاً فاعفوا يَعمُكُمُ الله) ادب الدنيا والدين للبصری، صفحه ۴۱ خاندانی اور سماجی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے ٹھیس پہنچتی ہے۔ ایک مرد یا عورت سے دوسرے مرد یا عورت کو ایسا تجربہ پیش آتا ہے جو اس کے اندر چھپے ہوئے غصہ کے جذبات کو بھڑکا دیتا ہے۔ ایک لمحہ کے لیے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی آگ سینہ میں اتر آئی ہے جو ہر چیز کو جلا دینا چاہتی ہے۔ یہ بے حد نازک لمحہ ہوتا ہے۔ اب ایک صورت یہ ہے کہ آدمی جواب کا طریقہ اختیار کرے، وہ اپنے سینہ کی آگ کو دوسرے کے اوپر انڈیل دے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آدمی فریقِ ثانی کو معاف کر دے، اس کے مقابلہ میں وہ جواب کے بجائے خاموشی کا طریقہ اختیار کرلے، ان دونوں طریقوں کے اثرات ایک دوسرے سے انتہائی طور پر مختلف ہیں۔ آدمی جب فریقِ ثانی کی اس اشتعال انگیزی کے بعد خود بھی مشتعل ہو جائے تو وہ فریقِ ثانی کو خود اپنے ہی برابر دکھائی دے گا، وہ سمجھے گا کہ جیسا میں ویسا وہ۔ ایسی صورت میں صرف دو طرفہ ٹکراؤ جاری رہے گا، ٹھیک اسی طرح جیسے حیوانوں میں دوطرفہ ٹکراؤ ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن اگر آپ ایسا کریں کہ فریقِ ثانی کی اشتعال انگیزی کے باوجود آپ چپ ہو جائیں، آپ غصہ کے جواب میں معافی اور درگزر کا طریقہ اختیار کریں تو اس کا نتیجہ مکمل طور پر مختلف ہوگا۔ اب فریقِ ثانی کو محسوس ہوگا کہ آپ اس سے بلند ہیں، اخلاقی اعتبار سے وہ نیچے ہے اور آپ اوپر۔ اس طرح آپ کی معافی کا نتیجہ آپ کو عزت کی صورت میں ملے گا۔ وقتی طور پر اپنی بے عزتی کو برداشت کر لینا آپ کے وقار کو بے پناہ حد تک بڑھادے گا ــــ اس دنیا میں عزت و وقار کا راز بدلہ لینے میں نہیں ہے بلکہ معاف کر دینے میں ہے۔ یہی اس دنیا کے لیے اس کے خالق کا قانون ہے، اور خالق کے قانون میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page