فلاح انسانیت
Urdu book, p. 315
By Maulana Wahiduddin Khan
درست بات حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور یومِ آخر پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ بولے تو بھلی بات بولے ورنہ چپ رہے ( عن ابی ھریرۃ رضی الله عنه عن النبی صلی الله عليه وسلم قال من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيراً ( ولی صمت رياض الصالحين ، باب فی تحریم الغيبة والأمر بحفظ اللسان صفحہ ، ۳۰۹ ذمہ دار انسان وہ ہے جو بولنے سے پہلے سوچے اور جب بولے تو وہی بات بولے جو سوچنے اور سمجھنے کے بعد اس کو بولنے کے قابل نظر آئی ہو۔ جس طرح بولنا ایک کام ہے، اسی طرح چپ رہنا بھی ایک کام ہے۔ کبھی آدمی کو اس لیے چپ رہنا چاہیے کہ وہ معاملہ کے بارے میں پوری واقفیت نہیں رکھتا۔ اور ناقص واقفیت کے ساتھ بولنا اپنا بھی نقصان کرنا ہے اور دوسرے کو بھی نقصان میں ڈالنا۔ مزید یہ کہ کسی معاملے میں کمتر واقفیت کے باوجود بولنا ایک غیر ذمہ داری کی روش ہے ، اور غیر ذمہ داری سے زیادہ بری چیز کسی انسان کے لیے اور کوئی نہیں۔ سچا بولنا کیا ہے ۔ سچا بولنا یہ ہے کہ آدمی جس مسئلہ پر بولنا چاہتا ہے، وہ اس کی مکمل تحقیق کرے۔ وہ اپنے آپ کو پوری طرح تعصبات سے خالی کرے۔ تاکہ وہ جو رائے قائم کرے وہ ایک غیر جانب دارانہ رائے ہو۔ اسی کے ساتھ یہ بھی انتہائی طور پر ضروری ہے کہ آدمی بولنے سے پہلے اس کے نتیجہ کے بارے میں سوچے ۔ ایک درست بات بھی اگر انجام کے اعتبار سے برا نتیجہ پیدا کرنے والی ہو تو ایسی درست بات کو بولنا بھی اتنا ہی غلط ہے جتنا کہ نادرست بات کو بولنا ۔ درست کلام کیا ہے ۔ درست کلام وہ ہے جو حقیقت واقعہ کے مطابق ہو، جس سے حق کی برتری مقصود ہو، نہ کہ اپنی ذات کی برتری، جو بولنے والے کے لیے اپنے ضمیر کی آواز کی حیثیت رکھتا ہو، جو ایسا ہو کہ جب اس کو علم اور عقل کی کسوٹی پر جانچا جائے تو وہ پورا اترے۔ جو ابدی حقیقت کا ترجمان ہو نہ کہ محض وقتی مصلحت کا اظہار ۔ بولنا اس کا حق ہے جو چپ رہنا جانے۔ چپ رہ کر جو کچھ کرنا ہے جب آدمی اس کو کرلے ، اس کے بعد ہی وہ اس کا حقدار بنتا ہے کہ وہ بولے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader