معرفت کا حصول
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
کوئی مخلوق زندگی گزارنے کے لئے کیا کرے اور خالق کائنات نے اپنی مجموعی اسکیم کے اندر اس کے ذمہ جو فرض عائد کیا ہے اس کو کس طرح انجام دے، اسی کو بتانے کا نام وحی ہے۔ اس وحی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جس کا تعلق انسان کے سوا دوسری مخلوقات سے ہے۔ اور دوسری وہ جس کا تعلق انسان سے ہے۔ انسان کے سوا جتنی زندہ مخلوقات اس زمین پر پائی جاتی ہیں وہ سب کی سب ارادے سے خالی ہیں۔ ان کا کام کسی سوچے سمجھے فیصلے اور ارادے کے تحت نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ ایک غیر شعوری قسم کے طبعی میلان کے تحت ہوتا ہے۔ جس کو ہم جبلت کہتے ہیں۔ یہ گویا ایک طرح کی زندہ مشینيں ہیں جو محدود دائرے میں اپنا متعین عمل کر کے ختم ہو جاتی ہیں۔ اس قسم کے جانداروں کے لئے ترک و اختیار کا کوئی سوال نہیں۔ اس لئے ان کے پاس جو وحی آتی ہے وہ حکم اور قانون کی شکل میں نہیں آتی بلکہ جبلت و عادت فطری کی شکل میں آتی ہے۔ ان کی ساخت اس طرز کی بنا دی جاتی ہے کہ وہ ایک مخصوص کام کو بار بار دہراتے رہیں۔ مگر انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو فیصلے کی قوت رکھتا ہے۔ وہ اپنے ارادے سے کسی کام کو کرتا ہے اور کسی کام کو نہیں کرتا۔ وہ ایک کام کرنا شروع کرتا ہے پھر اسے بالقصد چھوڑ دیتا ہے۔ اور ایک کام کو نہیں کرتا اور بعد کو اس کو کرنے لگتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ انسان بھی اگر چہ اسی طرح خدا کا بندہ ہے جس طرح اس کی دوسری مخلوقات، مگر اس کو حالت امتحان میں رکھا گیا ہے۔ جو کام دوسری مخلوقات سے عادت فطری کے تحت لیا جا رہا ہے انسان کو وہی کام اپنے فیصلے اور ارادے سے کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے پاس جو وحی آتی ہے وہ حکم اور قانون کی شکل میں آتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں عام حیوانات کی وحی ان کی فطرت میں پیوست کر دی گئی ہے اور انسان کی وحی خارج سے اسے پہنچائی جاتی ہے۔ عام حیوانات کو کیا کرنا ہے، اس کا علم وہ پیدائشی طور پر اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں۔ اس کے برعکس انسان جب عقل وہوش کی عمر کو پہنچتا ہے تو خدا کی طرف سے پکار کر اسے بتایا جاتا ہے کہ تم کو کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے۔ اس پیغام رسانی کا ذریعہ رسالت ہے۔ جو شخص یہ پیغام لے کر آتا ہے اس کو ہم رسول کہتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader