Urdu book · اسلام کا تعارف

اسلام کا تعارف

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک نیک بندے کو چن لیتا ہے اور اس کے قلب پر اپنا پیغام اتارتا ہے۔ اس طرح وہ شخص براہِ راست خدا سے اس کی مرضی کا علم حاصل کر کے دوسرے انسانوں تک پہنچاتا ہے۔ رسول گویا وہ درمیانی کڑی ہے جو بندے کو اس کے خدا سے جوڑتی ہے۔ وحی کا مسئلہ اب ہم کو اس سوال پر غور کرنا ہے کہ کسی بندۂ خاص پر خدا کی وحی کس طرح آتی ہے اور یہ کہ موجودہ زمانہ میں وہ کون سی وحی ہے جس سے ہمیں خدا کی مرضی کا علم حاصل ہوگا۔ اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے۔ انسان نے جو مشینین اور آلات بنائے ہیں وہ تقریباً سب کے سب لوہے کے ہیں۔ اگر لوہے کی تاریخ سامنے رکھی جائے تو یہ بات نہایت عجیب معلوم ہوگی کہ انسان نے اس کو کس طرح دریافت کیا جب کہ انسان کو لوہے کے متعلق پہلے سے کوئی علم نہیں تھا۔ اس نے کس طرح ذرات کو یکجا کیا جو مختلف مرکبات کی شکل میں زمین کی مختلف چٹانوں کے ساتھ مخلوط ہو کر منتشر پڑے تھے۔ پھر انھیں خالص لوہے کی ٹھوس شکل میں تبدیل کیا۔ یہی حال دوسری ایجادات کا بھی ہے۔ یہ بات کسی طرح سمجھ میں نہیں آتی کہ ان ایجادات کی طرف انسانی ذہن کی رہنمائی کس طرح ہوئی۔ وہ کون سی قوت ہے جو تجربہ اور مشاہدہ کے دوران میں ایک سائنس داں کو اس مخصوص نکتے تک پہنچا دیتی ہے جہاں پہنچ کر اسے ایک مفید اور کارآمد نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔ جو بات ہم کو معلوم نہیں تھی وہ ہم کو کیسے معلوم ہوگئی۔ اس علم کا ذریعہ وہی خدائی فیضان ہے، جس کو ہم وحی کہتے ہیں۔ سب کچھ جاننے والا اپنے علم میں سے تھوڑا سا حصہ اس کو عطا کر دیتا ہے جو کچھ نہیں جانتا۔ یہ فیضانِ وحی کا ابتدائی درجہ ہے جو غیر محسوس طور پر آتا ہے اور ہر شخص کو اس میں حصہ ملتا ہے۔ وحی کی دوسری قسم زیادہ ترقی یافتہ ہے جو شعوری طور پر آتی ہے اور صرف ان لوگوں کے پاس آتی ہے جن کو رسالت کے لئے منتخب کر لیا گیا ہو۔ انسان کے پاس حقیقت کا علم اور دنیا میں زندگی گذارنے کا طریقہ اسی دوسری قسم کی وحی کے ذریعہ بھیجا جاتا ہے۔ وحی کی حقیقت کو ہم بس اس قدر سمجھ سکتے ہیں، اس سے زیادہ کا مطالبہ کرنا دراصل ایک ایسا مطالبہ کرنا ہے جو انسان کے بس سے باہر ہے۔ ایک اُڑتے ہوئے جہاز کو زمین سے لاسلکی پیغام بھیجا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page