Urdu book · اسلام کا تعارف

وحی کا مسئلہ

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

جاتا ہے جس کو ہوائی جہاز پر بیٹھا ہوا آدمی پورے یقین کے ساتھ صاف الفاظ میں سن لیتا ہے۔ یہ ہماری قریبی زندگی کا ایک واقعہ ہے، مگر آج تک اس کی مکمل توجیہہ نہیں ہو سکی کہ یہ واقعہ کس طرح وجود میں آتا ہے۔ یہی حال ان تمام واقعات کا ہے، جن سے ہم اس زمین پر واقف ہیں۔ ہم تمام حقیقتوں کو صرف مجمل طور پر جانتے ہیں۔ جیسے ہی ہم کسی حقیقت کو آخری حد تک سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہماری قوتیں جواب دینے لگتی ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کی کلی واقفیت ہمارے بس سے باہر ہے۔ ایسی صورت میں وحی کی حقیقت کو مکمل طور پر سمجھنے کا مطالبہ کرنا کسی ایسے ہی آدمی کا کام ہو سکتا ہے جو خود اپنی حقیقت سے بے خبر ہو۔ سائنس نے اب یہ تسلیم کر لیا ہے کہ حقیقت مطلق کا علم حاصل کرنا انسان کے بس سے باہر ہے۔ اس سلسلہ میں، میں پروفیسر ہائزن برگ (Heisenberg) کی دریافت کا حوالہ دوں گا جس کو وہ اصول عدم تعین (princeple of indeterminary) کا نام دیتا ہے۔ جیمز جینز اس اصول کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”قدیم سائنس کا خیال تھا کہ کسی ذرے مثلاً ایک الیکٹران کا مقام مکمل طور پر بتایا جا سکتا ہے جب کہ ہم یہ جان لیں کہ کسی وقت میں فضا کے اندر اس کا مقام اور اس کی رفتار کیا ہے۔ اگر ان معلومات کے ساتھ بیرونی اثر انداز طاقتوں کا بھی علم ہو جائے تو الیکٹران کے تمام مستقبل کو معین کیا جا سکتا ہے۔ اور اگر کائنات کے تمام ذروں کے متعلق ان باتوں کا علم ہو جاتا ہے تو ساری کائنات کے مستقبل کے متعلق پیشین گوئی کی جاسکتی تھی۔ مگر ہائزن برگ کی تشریح کے مطابق، جدید سائنس اب اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ان مقامات کی دریافت میں تو قوانین قدرت حائل ہیں۔ اگر ہم یہ جان لیں کہ ایک الیکٹران فضا میں کسی خاص مقام پر ہے جب بھی ہم ٹھیک ٹھیک نہیں بتا سکتے کہ وہ کس رفتار سے حرکت کر رہا ہے۔ قدرت کسی حد تک گنجائش سہو (margin of error) کی اجازت دیتی ہے، لیکن اگر ہم اس گنجائش میں گھسنا چاہیں تو قدرت ہماری کوئی مدد نہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page