وحی کا مسئلہ
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
کرتی۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قدرت بالکل صحیح پیمائشوں سے قطعا نا آشنا ہے۔ اسی طرح اگر ہمیں کسی الیکٹران کی حرکت کی ٹھیک ٹھیک رفتار معلوم ہو تو قدرت ہمیں فضا کے اندر اس کا صحیح مقام دریافت کرنے نہیں دیتی۔ گویا الیکٹران کا مقام اور اس کی حرکت کسی لائین کے سلائڈ کی دو مختلف سمتوں پر نقش ہیں۔ اگر ہم سلائڈ کو کسی خراب لائین میں رکھیں تو ہم دور خوں کے درمیان نصف کوروشنی میں لا سکتے ہیں اور الیکٹران کے مقام اور اس کی حرکت دونوں کو کچھ نہ کچھ دیکھ سکتے ہیں۔ اچھی لائین کے ذریعہ ایسا نہیں ہوسکتا کیوں کہ ہم ایک پر جتنی زیادہ روشنی ڈالیں گے دوسرا اتنا ہی دھندلا ہوتا چلا جائے گا۔ خراب لائین قدیم سائنس ہے جس نے ہمیں اس فریب میں مبتلا کر دیا ہے کہ اگر ہمارے پاس بالکل مکمل لائین ہو تو ہم کسی خاص وقت پر ذرے کے مقام اور اس کی رفتار کا ٹھیک ٹھیک تعین کر سکتے ہیں۔ یہی دھوکا تھا کہ جس نے سائنس کی جبریت (determinism) کو داخل کر دیا، مگر اب جب کہ جدید سائنس کے پاس زیادہ بہتر لائین ہے، اس نے ہم کو صرف یہ بتایا ہے کہ حالت و حرکت کی تعیین حقیقت کے دو مختلف پہلو ہیں جنہیں ہم بیک وقت روشنی میں نہیں لا سکتے ہے اس سلسلے میں آخری سوال یہ ہے کہ خدا کی وحی جو مختلف زمانوں میں انسانوں کے پاس آتی رہتی ہے ان میں سے کون سی وحی ہے جس کا آج کے انسانوں کو اتباع کرنا ہے۔ اس کا جواب بالکل سادہ ہے۔ بعد کے لوگوں کے لئے وہی وحی قابلِ اتباع ہو سکتی ہے جو سب کے بعد آئی ہو۔ حکومت ایک ملک میں کسی شخص کو اپنا سفیر بنا کر بھیجتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک شخص کی سفارت اسی وقت تک کے لئے ہے جب تک وہ اپنے اس عہدے پر باقی ہو۔ جب اس کی مدت کار کردگی ختم ہو جائے اور دوسرے شخص کو اس عہدے پر مامور کر دیا جائے تو اس کے بعد وہی شخص حکومت کا نمائندہ ہو گا جس کو سب سے آخر میں نمائندگی کا موقع دیا گیا ہے۔ ۷| ماڈرن سائنٹفک تھاٹ صفحہ ۱۷-۱۸

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader