Urdu book · اسلام کا تعارف

وحی کا مسئلہ

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

اس اعتبار سے حضرت محمد ﷺ ہی وہ آخری رسول ہیں جو آج اور آئندہ قیامت تک کے لئے انسانیت کے رہنما ہیں، جو ساتویں صدی عیسوی میں عرب سے اٹھے تھے، جن کے بعد نہ کوئی نبی ہوا اور نہ آئندہ ہوگا۔ آپ کا تمام نبیوں کے بعد تشریف لانا اس بات کی کافی دلیل ہے کہ آپ کو اور صرف آپ کو حال اور مستقبل کے لئے خدا کا نمائندہ قرار دیا جائے کیوں کہ بعد کو آنے والا اپنے سے پہلے آنے والوں کو منسوخ کر سکتا ہے مگر پہلے آنے والا اپنے بعد آنے والے کو منسوخ نہیں کر سکتا۔ ہو سکتا ہے کہ انسانی تاریخ کی سب سے پرانی اور ابتدائی مذہبی کتاب رگ وید ہو جو خدا کی ہدایت کے تحت مرتب کی گئی ہو۔ جیسا کہ انجیل نسبتاً درمیانی زمانے کی الہامی کتاب ہے۔ مگر اب یہ تمام کتابیں آؤٹ آف ڈیٹ ہو چکی ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ ان کے مضامین کی صحت مشکوک ہے اور اس سے قطع نظر کہ ان میں سے کوئی کتاب بھی اپنے کو آخری اور دائمی کتاب کی حیثیت سے پیش نہیں کرتی۔ صرف یہ واقعہ کہ وہ خدا کے آخری ہدایت نامہ سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان کو آج کے لئے منسوخ قرار دے دیتا ہے۔ ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول ہی کیوں تسلیم کریں۔ میرا جواب یہ ہے کہ جن وجوہ سے آپ دوسرے رسولوں کو مانتے ہیں انہی وجوہ سے آخری رسول کو بھی ماننا پڑے گا۔ آپ کسی دوسرے رسول کے بارے میں یہ ثابت کرنے کے لئے کہ وہ خدا کی طرف سے آئے تھے جو اصول بنائیں گے اور جو مقدمات بھی قائم کریں گے ، ٹھیک انہی دلائل اور انہی مقدمات کی بنا پر آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خدا کا رسول ماننا ہوگا۔ اگر آپ آخری رسول کا انکار کرتے ہیں تو آپ کو سارے رسولوں کا انکار کرنا پڑے گا۔ اور اگر دوسرے رسولوں کو مانتے ہیں تو آپ کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ آخری رسول کو بھی تسلیم کریں اور جوں ہی آپ آخری رسول کو تسلیم کرتے ہیں ، آپ کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ اسی کو آخری سند قرار دیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول ماننا اور آپ کو آخری سند تسلیم نہ کرنا دونوں بالکل متضاد چیزیں ہیں، جو ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں۔ خدا کے آخری حکم کی موجودگی میں اس کے سابقہ حکموں کا حوالہ دینا خدا کی اطاعت کا ایک ایسا طریقہ ہے، جس سے خدا کبھی راضی نہیں ہو سکتا۔ یہ خود اپنے نفس کی اطاعت ہے، نہ کہ خدا کی اطاعت ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page