اسلام کا مختصر تعارف
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری چیز جو خدا کے رسول نے ہم کو بتائی وہ انسان کی پیدائش کا مقصد اور کائنات کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔ اس نے بتایا کہ انسان کو اس لئے پیدا کیا گیا ہے تا کہ اسے آزمایا جائے۔ انسان کو عمل کی آزادی دے کر اس کے پاس اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی بھیج دی ہے۔ اب وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون اپنے مالک کی مرضی کے مطابق چلتا ہے اور کون اس کے خلاف عمل کرتا ہے۔ کائنات کے ساتھ ساتھ انسان کا جو تعلق ہے وہ بھی اسی مقصد کے تحت ہے۔ یہ کائنات کسی شخص یا قوم کی جائداد نہیں ہے، نہ وہ کوئی ال تلپ جگہ ہے بلکہ وہ اس لئے ہے کہ انسان کو اپنا فرض منصبی ادا کرنے میں مدد دے۔ یہ دنیا دراصل ہمارا وہ میدان عمل ہے جہاں رہ کر ہمیں امتحان دینا ہے، اس کے سوا دنیا کی کوئی حیثیت نہیں۔ ہمارے اس امتحان کی ایک مدت ہے۔ ایک شخص کی مدت اس کی عمر تک ہے اور ساری انسانیت کی مدت اس وقت تک ہے جب تک انسانی پیدائش کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس کے بعد کائنات کا مالک سب کو جمع کرے گا اور ہر ایک کے عمل کے مطابق انعام یا سزا دے گا۔ اس انعام اور سزا پانے کی جگہ جنت اور جہنم ہے۔ اس تصور کا نام آخرت ہے۔ موجودہ دنیا ہماری زندگی کا آغاز ہے اور آخرت ہماری زندگی کا انجام ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے مستقبل کے بارہ میں ہم کو آگاہ کیا ہے۔ یہ مستقبل کی دنیا ہماری نگاہوں سے اوجھل رکھی گئی ہے۔ کیوں کہ ہماری حالت امتحان میں ہونے کی حیثیت اسی کا تقاضہ کرتی تھی۔ مگر امتحان کی مدت پوری ہو جائے گی تو یہ چھپی ہوئی دنیا بالکل اسی طرح ہمارے سامنے آ جائے گی جس طرح موجودہ کائنات ہم کو صاف نظر آ رہی ہے۔ اس دنیا میں بظاہر ہم کو صرف ایک ہی جگہ نظر آتی ہے۔ مگر کسی چیز کی حقیقت صرف اتنی ہی نہیں ہوتی جتنی وہ دکھائی دے رہی ہو۔ سورج کی روشنی بظاہر دیکھنے میں ایک پیلی چمک دار سی چیز ہے۔ مگر حقیقت میں وہ سات رنگوں کا مجموعہ ہے۔ ٹھیک اسی طرح ہماری موجودہ زندگی کے اندر ایک اور زندگی چھپی ہوئی ہے۔ جس کو ہم مرنے کے بعد دیکھیں گے، جہاں ہم مرنے کے بعد پہنچا دیئے جائیں گے۔ یہ آخرت محض ایک مابعد الطبیعی نظریہ نہیں ہے بلکہ ہماری زندگی سے اس کا گہرا تعلق ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader