Urdu book · اسلام کا تعارف

اسلام کا مختصر تعارف

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان خدا کے خوف سے بے پروا ہو جاتا ہے تو پھر کوئی چیز نہیں ہوتی جو اس کو دوسروں کے اوپر ظلم کرنے اور دوسروں کو لوٹنے سے روک سکے۔ جن لوگوں نے صرف قانون اور سیاست کے ذریعہ اصلاح کی کوشش کی ہے۔ ان کی کوششوں نے صرف لوٹ کھسوٹ کی شکلوں کو بدلا ہے۔ اصل صورت حال میں کوئی تبدیلی پیدا انہیں کی ہے۔ حقیقی اصلاح صرف اسی وقت ممکن ہے جب کہ انسان کے اندر غلط روی سے بچنے اور صحیح راستہ اختیار کرنے کا جذبہ پیدا ہو جائے۔ اس جذبہ کو پیدا کرنے والی چیز صرف خدا کی باز پرس کا خوف ہے۔ ہم مجبور ہیں کہ انصاف پسند اور دیانت دار انسان بنانے کے لئے آخرت کا سہارا لیں۔ اس کے سوا کسی اور ذریعہ سے ہم اس مقصد کو حاصل نہیں کر سکتے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آخرت کا تصور ایک فرضی تصور ہے۔ اگر چہ جن دلائل کی بنا پر آخرت کو فرضی قرار دیا جاتا ہے اگر ان کو صحیح مان لیا جائے تو ساری کائنات فرضی قرار پاتی ہے۔ حتیٰ کہ خود ہمارا اپنا وجود بھی فرضی ہو جاتا ہے۔ لیکن میں اس سے بحث نہیں کروں گا۔ اس کے جواب میں یہاں میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ آخرت اگر فرضی چیز ہے تو وہ ہمارے لئے اس قدر ضروری کیوں ہے۔ کیوں ایسا ہے کہ اس کے بغیر ہم صحیح معنوں میں کوئی سماجی نظام بنا ہی نہیں سکتے۔ انسانی ذہنوں سے اس تصور کو نکالنے کے بعد کیوں ہماری ساری زندگی ابتر ہو جاتی ہے۔ کیا کوئی فرضی چیز زندگی کے لئے اس قدر ناگزیر ہو سکتی ہے۔ کیا اس کائنات میں ایسی کوئی مثال پائی جاتی ہے کہ ایک چیز حقیقت میں موجود نہ ہو مگر اس کے باوجود وہ اس قدر حقیقی بن جائے۔ زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو مگر اس کے باوجود وہ زندگی سے اتنی متعلق نظر آئے۔ زندگی کی صحیح اور منصفانہ تنظیم کے لئے آخرت کے تصور کا اس قدر ضروری ہونا خود یہ ظاہر کرتا ہے کہ آخرت اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ وہ اگر چہ ہماری آنکھوں سے ہم کو نظر نہیں آتی مگر اس کے باوجود وہ نظر آنے والی تمام چیزوں سے زیادہ واضح اور یقینی ہے۔ کسی آدمی کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ بقید ہوش وحواس اس کا انکار کر سکے۔ تیسری چیز جو خدا کے رسول نے بتائی وہ اس سوال کا جواب ہے کہ انسان خدا کے ساتھ تعلق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page