خدا کا وجود
Urdu book, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ یہ جھکا نہ ہوتا تو سمندر سے اٹھتے ہوئے بخارات سیدھے شمال یا جنوب کو چلے جاتے اور ہمارے براعظم برف سے ڈھکے رہتے۔ چاند ہم سے تقریبا ڈھائی لاکھ میل کے فاصلے پر ہے۔ اس کے بجائے اگر وہ صرف ایک لاکھ میل دور ہوتا تو سمندروں میں مدوجزر کی لہریں اتنی بلند ہوتیں کہ تمام کرۂ ارض دن میں دو بار پانی میں ڈوب جاتا اور بڑے بڑے پہاڑ موجوں کے ٹکرانے سے گھس کر ختم ہو جاتے۔ یہ ہماری کائنات کے چند نہایت معمولی اور بالکل سادہ واقعات ہیں۔ ان کے سوا بے شمار ایسے واقعات ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ ہماری زمین پر ان کا اجتماع محض اتفاقی طور پر نہیں ہو سکتا اور نہ محض اتفاق انہیں باقی رکھ سکتا ہے۔ یقیناً کوئی ہے جو ان واقعات کو وجود میں لایا ہے اور ان کو اس قدر منظم طریقہ پر مسلسل باقی رکھے ہوئے ہے۔ کائنات اتنی مربوط اور منظم ہے کہ جب بھی ہم اس کے کسی واقعہ کو بیان کرتے ہیں تو در حقیقت ہم اس کو محدود کر دیتے ہیں۔ کائنات کے ایک ایک جزو کے اندر اتنی حکمتیں ہیں کہ جب بھی ہم اس کی کسی حکمت کا ذکر کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا ہم اس کو ایک کمتر درجہ کی چیز بنا کر پیش کر رہے ہیں، ایسی ایک کائنات کو خدا کی مخلوق ماننا اگر کسی کو خلاف عقل معلوم ہوتا ہے تو اس سے زیادہ خلاف عقل بات یہ ہے کہ اس کائنات کو بے خدا فرض کر لیا جائے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر خدا نے سب چیزیں پیدا کی ہیں تو خدا کو کس نے پیدا کیا۔ مگر یہ ایک سوال ہے جو ہر حال میں پیدا ہوتا۔ خواہ ہم خدا کو مانیں یا نہ مانیں۔ ہم دو میں سے کسی ایک چیز کو بلا سبب ماننے پر مجبور ہیں۔ یا خدا کو بے سبب مانیں یا کائنات کو۔ ہمارے سامنے ایک عظیم کائنات ہے جس کو ہم دیکھتے ہیں، جس کو ہم محسوس کرتے ہیں۔ ہم مجبور ہیں کہ اس کائنات کے وجود کو تسلیم کریں۔ ہم اس کا انکار نہیں کر سکتے۔ پھر یا تو ہم یہ کہیں کہ کائنات خود سے وجود میں آ گئی ہے یا یہ کہیں کہ کوئی ہستی اور ہے جس نے اس کو بنایا ہے۔ دونوں صورتوں میں ہم کسی نہ کسی کو بلا سبب تسلیم کریں گے تو پھر کیوں نہ ہم خدا کو بلا سبب مان لیں جس کو ماننے کی صورت میں ہمارے تمام سوالات کا جواب مل جاتا ہے، جب کہ کائنات کو بلا سبب ماننے کی شکل میں کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ وہ تمام سوالات جو اس مسئلے کے ارد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader