اسلام کیا ہے
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
ماتحتی والی زندگی ہے۔ غیر اسلام یہ ہے کہ آدمی اطاعت شعار ہو اور اپنے آپ کو خدا کی وفاداری اور ماتحتی میں دیتے ہوئے زندگی گزارے یہی دوسرے لوگ خدا کی رحمتوں میں حصہ دار بنائے جائیں گے۔ ایمان ایمان کی حقیقت معرفت ہے یعنی خدا کی دریافت۔ ایک انسان جب خدا کے وجود کو شعوری طور پر پالے اور خدائی حقیقتوں تک اس کی رسائی ہو جائے تو اسی کا نام ایمان ہے۔ یہ دریافت کوئی سادہ بات نہیں۔ خدا تمام چیزوں کا خالق اور مالک ہے۔ وہ انعام دینے والا ہے اور سزا دینے والا بھی۔ اس کی پکڑ سے کوئی بچا ہوا نہیں۔ ایسے ایک خدا کی دریافت آدمی کی پوری زندگی کو ہلا دیتی ہے۔ اس کی سوچ میں ایک انقلاب آجاتا ہے۔ اس کے تمام جذبات کا مرکز خدا بن جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی پوری طرح خدا کا بندہ بن جاتا ہے۔ خدا ہی اس کی تمام تو جہات کا مرکز بن جاتا ہے۔ اب وہ ایک ایسا انسان ہوتا ہے جس کا جینا بھی خدا کے لیے ہو اور مرنا بھی خدا کے لیے ہو۔ اس ایمان کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کے آداب و اخلاق سب خدا کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ وہ بولتا ہے تو یہ سمجھ کر بولتا ہے کہ خدا اس کی آواز کو سن رہا ہے۔ وہ چلتا ہے تو اس طرح چلتا ہے کہ اس کی چال خدا کی پسند کے خلاف نہ ہو۔ وہ لوگوں سے معاملہ کرتا ہے تو اس کو یہ ڈر رہتا ہے کہ اگر میں نے کوئی برا معاملہ کیا تو خدا مجھے اس کی سزا دے گا۔ اس ایمان کا اثر یہ ہوتا ہے کہ آدمی کی پوری زندگی آخرت رخی بن جاتی ہے۔ وہ ہر معاملہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader