اسلام کیا ہے
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
میں دنیا سے زیادہ آخرت کے پہلو کو اپنی نظر میں رکھتا ہے ۔ وہ وقتی فائدے کے بجائے آخرت کے فائدے کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیتا ہے ۔ جب بھی کسی معاملہ میں دو پہلو ہوں ، ایک دنیا کا پہلو اور دوسرا آخرت کا پہلو تو ہمیشہ وہ دنیا کے پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے آخرت کے پہلو کو لے لیتا ہے ۔ یہ ایمان اس کے لیے خدا پر اعتماد کا سر چشمہ بن جاتا ہے ۔ وہ ہر حال میں خدا پر بھروسہ کرتا ہے ۔ ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے خدائے برتر کی پہچان کا نام ہے ۔ مگر جب یہ پہچان کسی کے دل و دماغ میں اترتی ہے تو وہ اس کی پوری شخصیت کو ایک نئی شخصیت بنا دیتی ہے ۔ وہ ہر اعتبار سے ایک نیا انسان بن جاتا ہے ۔ امتحان موجودہ دنیا میں انسان آزاد ہے ۔ خدا نے اس پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی ہے ۔ مگر یہ آزادی امتحان کے لیے ہے نہ کہ بے قید زندگی کے لیے ۔ اس آزادی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی جانور کی طرح بے قید زندگی گزارے اور پھر ایک دن مر جائے ۔ بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ آدمی خود اپنے ارادہ کے تحت صحیح زندگی گزارے ۔ وہ خود اپنے فیصلہ کے تحت اپنے آپ کو اعلیٰ اخلاقی اصولوں کا پابند بنا لے ۔ انسان کو اس انداز پر پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس کو تمام مخلوقات میں سب سے اشرف مخلوق ہونے کا کریڈٹ دیا جائے ۔ اس کا شمار خدا کے ان خصوصی بندوں میں ہو جنھوں نے کسی ظاہری پابندی کے بغیر اپنے آپ کو با اصول انسان بنایا ۔ جنھوں نے کسی خارجی جبر کے بغیر خود اپنے آزادانہ فیصلہ کے تحت وہ کیا جو انھیں حقیقت کی رو سے کرنا چاہیے تھا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader