اسلام کیا ہے
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
ادھر اُدھر کے راستوں پر بھٹکنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی خواہش کا تابع بن جائے ۔ وہ ظاہری مفاد کو اہمیت دینے لگے۔ وہ غصہ اور نفرت اور حسد اور انانیت جیسے جذبات کا شکار ہو جائے ۔ وہ بے سوچے سمجھے ہر اس سمت میں دوڑ پڑے جو اسے اپنے سامنے کھلی ہوئی دکھائی دیتی ہوں ۔ اس کے برعکس خدا والا راستہ یہ ہے کہ آدمی خدا کے احکام پر غور کرے۔ وہ سنجیدہ فیصلہ کے تحت اپنا رخ متعین کرے۔ وہ آخرت کی جواب دہی کی بنیاد پر اپنی زندگی کے معاملات طے کرے نہ کہ محض وقتی فائدہ یا وقتی محرکات کی بنیاد پر۔ صبح و شام اسلام زندگی کا ایک مکمل پروگرام ہے۔ وہ آدمی کی پوری زندگی کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک زندگی کا کوئی لمحہ ایسا نہیں ہے جو اسلام کے دائرہ سے باہر ہو۔ ایک مومن رات کو سو کر صبح سویرے اٹھتا ہے۔ وہ سب سے پہلے اپنے جسم کو پاک کرتا ہے اور وضو کر کے فجر کی نماز ادا کرتا ہے۔ یہ گویا مومنانہ زندگی کا آغاز ہے جو پاکیزگی اور عبادت سے شروع ہوتی ہے۔ اس کے بعد صبح سے دوپہر تک کا وقت معاشی دوڑ دھوپ کا وقت ہے۔ تاہم اس دوڑ دھوپ کے دوران مومن مسلسل خدا کو یاد رکھتا ہے۔ وہ ہر معاملہ میں خدا کی مقرر کی ہوئی حد کی پابندی کرتا ہے۔ لیکن دین میں وہ دیانت داری کا انداز اختیار کرتا ہے۔ لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے میں وہ پوری طرح اسلامی اخلاقی کو اپنائے ہوئے ہوتا ہے۔ اس طرح دوسری نماز کا وقت آ جاتا ہے جو دو پہر بعد پڑھی جاتی ہے۔ یہ ظہر کی نماز ہے۔ ظہر کی نماز کی صورت میں وہ اللہ سے اپنے تعلق کو از سر نو زندہ کرتا ہے۔ اپنے جسم اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader