اسلام کیا ہے
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے روح کو وہ پاک کر کے دوبارہ زندگی کی جدوجہد میں شریک ہو جاتا ہے۔ وہ ایک با اصول انسان کی مانند اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ تیسری نماز کا وقت آجاتا ہے جس کو عصر کی نماز کہا جاتا ہے۔ اب وہ پھر نماز کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ پھر خدا کی رحمتوں میں سے اپنا حصہ لیتا ہے تاکہ اگلے مرحلہ میں وہ اس کے کام آ سکے۔ اس طرح مومن کے لمحات گزرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہوتا ہے اور چوتھی نماز کا وقت آ جاتا ہے جس کو مغرب کی نماز کہا جاتا ہے۔ اب مومن اپنے کام کو چھوڑ کر پھر نماز کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ وہ مقررہ قاعدہ کے مطابق نماز ادا کرتا ہے اور اس سے دینی اور روحانی غذا لے کر باہر آتا ہے۔ اس کے بعد وہ نماز سے حاصل کیے ہوئے دینی ذہن کے تحت اپنی ضروریات پوری کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ پانچویں نماز کا وقت آ جاتا ہے جس کو عشاء کی نماز کہا جاتا ہے۔ عشاء سے فراغت کے بعد مومن اپنے بستر پر جاتا ہے۔ اور اپنے دن بھر کے کام کا احتساب کرتے ہوئے سو جاتا ہے تا کہ صبح سویرے اٹھ کر وہ زیادہ بہتر طور پر اپنے اگلے دن کا آغاز کر سکے۔ عبرت پذیری مومن کا مزاج عبرت پذیری کا مزاج ہوتا ہے۔ اس کو قرآن میں تو سم کہا گیا ہے یعنی واقعات سے نصیحت لینا۔ گرد و پیش کی چیزوں سے سبق حاصل کرنا۔ ایمان عین اپنی فطرت کے نتیجہ میں آدمی کو حساس بنا دیتا ہے۔ وہ ہر معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔ اس کا مزاج یہ بن جاتا ہے کہ وہ چیزوں کی سطحی پہلو سے گزر کر ان کی گہرائیوں میں اترے۔ جن چیزوں کو دیکھ کر لوگ سرسری طور پر گزر جاتے ہیں ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader