اسلام کیا ہے
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
سادگی مومن کی غذا ہے۔ سادگی اس کی تواضع کے لیے ایک لباس بن جاتی ہے۔ سادگی کے ماحول میں اس کی شخصیت زیادہ بہتر طور پر پرورش پاتی ہے۔ سادگی مومن کا حسن ہے ۔ سادگی مومن کے لیے زندگی ہے۔ مومن اگر اپنے آپ کو مصنوعی رونقوں میں پائے تو اس کو ایسا محسوس ہوگا جیسے اس کو کسی قید خانہ میں بند کر دیا گیا ہے۔ مومن آخری حد تک اپنے آپ کو خدا کا بندہ سمجھتا ہے۔ یہ چیز اس کو عبدیت کے احساس میں جینے والا بنادیتی ہے اور جو انسان عبدیت کے احساس میں جی رہا ہو اس کا مزاج لازمی طور پر سادگی کا مزاج ہوتا ہے۔ غیر سادگی کا انداز اس کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا اس لیے وہ اس کو اختیار بھی نہیں کر سکتا۔ خدائی طریقہ کائنات میں ان گنت ستارے اور سیارے ہیں۔ یہ سب کے سب وسیع خلا کے اندر ہر لمحہ گھوم رہے ہیں۔ خلا گویا کہ لا تعداد متحرک اجسام کی دوڑ کا ایک اتھاہ میدان ہے۔ مگر حیرت ناک بات ہے کہ ان ستاروں اور سیاروں میں کبھی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ اس کا راز کیا ہے۔ اس کا راز یہ ہے کہ ہر ستارہ اور ہر سیارہ نہایت پابندی کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں گھومتا ہے۔ وہ اپنے مدار سے ذرا بھی باہر نہیں جاتا۔ حرکت کا یہی قانون ہے جوان ستاروں اور سیاروں کو آپس میں ٹکرانے سے مسلسل روکے ہوئے ہے۔ ٹھیک یہی طریقہ انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کی دوڑ کے لیے بھی خدا نے ایک دائرہ مقرر کر دیا ہے۔ ہر انسان کو اسی محدود دائرہ کے اندر حرکت کرنا ہے۔ جب تمام انسان اپنے اپنے دائرہ میں حرکت کریں تو سماج میں اپنے آپ امن کی حالت قائم ہو جاتی ہے۔ اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader