Urdu book · اسلام کیا ہے

اسلام کیا ہے

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

فرشتوں کے معاملہ کو ایک بڑے کارخانے کی مثال سے سمجھا جاسکتاہے۔ کسی بڑے کارخانے میں ایک طرف بہت سی بڑی بڑی اور پیچیدہ مشینیں ہوتی ہیں۔ انھیں مشینوں سے وہ پیداوار نکلتی ہے جس کے لیے کارخانہ قائم کیا گیا ہے۔ مگر یہ مشینیں اپنے آپ نہیں چلتیں۔ ان کو چلانے کے لیے بہت سے انسان کارکن درکار ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہر کارخانہ میں بڑی تعداد میں انسانی کارکن سرگرم رہتے ہیں تا کہ وہ کارخانہ کو اس کے مطلوب انداز پر چلاتے رہیں ۔ اسی طرح کائنات کے عظیم کارخانہ میں بے شمار فرشتے اس کو چلانے کے لیے مامور ہیں۔ دونوں کارخانوں میں صرف یہ فرق ہے کہ عام کارخانوں کے انسانی کارکن دکھائی دیتے ہیں۔ جبکہ کائناتی کارخانہ میں کام کرنے والے فرشتے ظاہری آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتے۔ پیغمبر پیغمبر وہ انسان ہے جس کو خدا اپنی نمائندگی کے لیے چن لے۔ خدا جب ایک انسان کو اپنا پیغمبر بناتا ہے تو خدا کا فرشتہ اس کے پاس آکر اس کو اس انتخاب کی خبر دیتا ہے۔ اس طرح اس کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ اس کے بعد فرشتہ کے ذریعہ خدا اس پر اپنی تعلیمات اتارتا ہے تا کہ وہ ان تعلیمات سے تمام انسانوں کو باخبر کر دے۔ پیغمبر گویا خدا اور انسان کے درمیان ہوتا ہے۔ وہ خدا سے لے کر انسانوں تک پہنچاتا ہے۔ خدا نے انسان کو عقل دی۔ وہ اس کے ذریعہ ظاہری باتوں کو سمجھ سکتا ہے۔ مگر بہت سی باتیں وہ ہیں جن کو جاننے اور سمجھنے کے لیے صرف ظاہری علم کافی نہیں۔ خود موجودہ دنیا کے بارہ میں زیادہ گہری حقیقتیں انسان کی عقلی گرفت میں نہیں آتیں ۔ اور جہاں تک خدا اور عالم آخرت کا معاملہ ہے وہ مکمل طور پر نہ دکھائی دینے والی دنیا سے تعلق رکھتا ہے اس بنا پر وہ انسان کے عقلی ادراک سے باہر ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page