اسلام پندرھویں صدی میں
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
جو صلیبی لڑائیوں (Crusades) کے نام سے مشہور ہے، بالآخر یورپ کی مکمل ناکامی پر ختم ہوئی۔ مگر یورپ نے ہمت نہیں ہاری۔ اب اس کے اندر ایک تیار رجحان ابھرا۔ صلیبی جنگوں کے درمیان اہل یورپ کو تجربہ ہو گیا تھا کہ مسلمان علم اور سائنس میں ان سے بہت آگے ہیں۔ اس وقت کا تصور کیجیے جب مصری فوج نے منجنیقوں کے ذریعہ فرایسی لشکر پر آگ کے بان پھینکنا شروع کئے ۔ یہ بان جب منجنیقوں سے نکل کر دشمن کی طرف بڑھتے تو ایسا نظر آتا جیسے بڑے بڑے آتشیں ارز دبے ہوا میں اڑ رہے ہوں۔ فرانسیسی، جن کے پاس اس وقت پرانے دستی ہتھیاروں کے سوا اور کچھ نہ تھا، ان کے لیے یہ بان ایسے ہی بھیانک تھے جیسے آج کسی پس ماندہ اور بے سروسامان ملک پر جدید ترین راکٹوں کے ذریعہ حملہ کر دیا جائے۔ اسی طرح مسلمان تہذیب و تمدن کے تمام پہلوؤں میں نمایاں طور پر اہل یورپ سے بڑھے ہوئے تھے۔ چنانچہ صلیبی جنگوں کے ناکام تجربہ کے بعد یورپ نے فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کو شکست دینے کے لیے اب اس کو دوسرے قسم کی جنگ چھیڑنی ہے، اور وہ یہ کہ مسلمانوں کے ہنر اور ان کے علوم کو سیکھ کر انہیں کے ہتھیاروں سے انہیں شکست دی جائے ۔ اب ایک طرف یورپ کے مذہبی طبقہ نے روحانی صلیبی جنگ (Spiritual Crusades) کا نعرہ دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کے مذہبی علوم کو سیکھا جائے، اور مسلمانوں کی تاریخ اور ان کے عقائد کو اس طرح بگاڑ کر پیش کیا جائے کہ مسلمان اپنے دین سے متنفر ہو جائیں اور عیسائیت قبول کر لیں تاکہ وہ قوم جس کو فوجی میدان میں شکست نہیں دی جا سکتی ہے، اس کو عددی حیثیت سے کمزور کر کے مغلوب کیا جاسکے۔ عیسائی مشنری تحریک پہلی بار صلیبی جنگوں کے زمانے میں شروع ہوئی۔ پہلا شخص جس نے ۱۹۵۱ء میں ماؤنٹ کارمل پر مشنری نظام قائم کیا۔ وہ ایک صلیبی ہی تھا۔ بعد کو فرانس کن ۱۹۴۱ء نے اس کی پیروی کی ۔ یہ مشنری تحریک آج ساری دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور تبلیغی ادارہ کی حیثیت سے کام کر رہی ہے۔ اس کی کوششیں اس حد تک کامیاب ہوئی ہیں کہ ساری دنیا کا لٹریچر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غلط قسم کی باتوں سے بھر گیا ہے ۔ دوسری طرف مسلمانوں کا فلسفہ و سائنس اور ان کے علوم دفنون سیکھنے کی تحریک زور شور سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ یورپ کی درسگاہوں میں عربی زبان پڑھانے کا انتظام کیا گیا۔ مسلمانوں کی تصنیفات کے ترجمے یورپ کی زبانوں میں کئے جانے لگے۔ یورپ کے طلبہ مسلم شہروں میں تحصیل علم کے لیے جانا شروع ہوئے ۔ جنگ کی یہ نئی تکنیک اختیار کرنے کی وجہ سے یورپ کو اندرونی طور پر مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت یورپ کے قدامت پسند حلقوں میں عربی زبان کی تو سیع کی حوصلہ افزائی کے سلسلہ میں ناراضگی پائی جاتی تھی جس کی وجہ خاص طور پر یہ اندیشہ تھا کہ عربی سیکھنے سے عیسائیوں کے درمیان اسلامی خیالات پھیلنا شروع ہو جائیں گے۔ مثال کے طور پر فرانس کن راہب راجر بیکین (۱۲۹۳-۱۲۱۴) جو اپنے وقت کا مشہور انگلستانی عالم تھا، اس نے جب عربی زبان کی اہمیت پر زور دیا تو آکسفورڈ کے علما چلا اٹھے ”بیکن سلمان (Saracen) ہو گیا “۔ مگر اس طرح کی مخالفتوں کے باوجود مسلمانوں کی زبان اور ان کے علوم کے علوم سیکھنے کا رجحان بڑھتا رہا۔ مسلم محققین کے حاصل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader