جہاد کا تصورِ اسلام میں
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
وقت کے حالات میں یہ خندق گو یا ایک حارج (buffer) یا ٹکر روک طریقہ تھا۔ چنانچہ قریش کا لشکر خندق کے دوسری طرف کچھ دن ٹھہرا رہا اور اس کے بعد واپس چلا گیا۔ یہ خندق بھی گو یا پُر تشد د عمل کے مقابلہ میں پر امن عمل کا انتخاب لینے کی ایک مثال ہے۔ ۴۔ اسی طرح صلح حدیبیہ بھی اسی قسم کی ایک سنت کی حیثیت رکھتی ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر یہ صورت تھی کہ رسول اور اصحاب رسول مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کرنا چاہتے تھے۔ مگر مکہ کے سرداروں نے حدیبیہ کے مقام پر آپ کو روک دیا اور کہا کہ آپ لوگ مدینہ واپس جائیں۔ ہم کسی قیمت پر آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے ۔ یہ گو یا قریش کی طرف سے آپ کے لیے ایک جنگی چیلنج تھا۔ اگر آپ اپنے ارادہ کے مطابق عمرہ کرنے کے لیے مکہ کی طرف بڑھیں تو یقینی تھا کہ قریش سے جنگی ٹکراؤ پیش آئے گا۔ مگر آپ نے حدیبیہ پر اپنا سفر ختم کر دیا اور قریش کی یک طرفہ شرطوں پر امن کا معاہدہ کر کے مدینہ واپس آگئے ۔ یہ بھی واضح طور پر تشدد کے مقابلہ میں امن کا طریقہ اختیار کرنے کی ایک پیغمبرانہ مثال ہے۔ ۵۔ فتح مکہ کے واقعہ سے بھی آپ کی یہی سنت ثابت ہوتی ہے۔ اس وقت آپ کے پاس جاں نثار صحابہ دس ہزار کی تعداد میں موجود تھے۔ وہ یقینی طور پر قریش سے کامیاب لڑائی لڑ سکتے تھے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمالِ طاقت کے بجائے مظاہرہ طاقیت کا طریقہ اختیار فرمایا۔ آپ نے ایسا نہیں کیا کہ دس ہزار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader