جہاد کا تصورِ اسلام میں
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
افراد کی اس فوج کو لے کر اعلان کے ساتھ نکلیں اور قریش سے جنگی تصادم کر کے مکہ پر قبضہ حاصل کریں۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ کامل راز داری کے ساتھ سفر کی تیاری کی اور اپنے اصحاب کے ساتھ سفر کرتے ہوئے نہایت خاموشی کے ساتھ مکہ میں داخل ہو گئے۔ آپ کا یہ داخلہ اتنا اچانک تھا کہ قریش آپ کے خلاف کوئی تیاری نہ کر سکے اور مکہ کسی خونی تصادم کے بغیر فتح ہو گیا ــــ یہ بھی پر تشدد طریق کار کے مقابلہ میں پر امن طریق کار کو اختیار کرنے کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ ان چند مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف عام حالات میں بلکہ انتہائی ہنگامی حالات میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے مقابلہ میں امن کے اصول کو اختیار فرمایا۔ آپ کی تمام کامیابیاں اسی سنتِ امن کی عملی مثالیں ہیں۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اسلام میں امن کی حیثیت حکمِ عام کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف مجبوارانہ استثناء کی۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیے اور پھر یہ دیکھیے کہ موجودہ زمانہ میں صورت حال کیا ہے۔ اس معاملہ میں جدید دور قدیم دور سے مکمل طور پر مختلف ہے۔ قدیم زمانہ میں پر تشدد طریق کار ایک عام رواج کی حیثیت رکھتا تھا اور امن کا طریقہ اختیار کرنا بے حد مشکل کام تھا، مگر اب صورت حال یکسر طور پر بدل گئی ہے۔ موجودہ زمانہ میں پر تشدد طریق کار آخری حد تک غیر مطلوب اور غیر محمود بن چکا ہے۔ اس کے مقابلہ میں پر امن طریق کار کو واحد پسندیدہ طریق کار کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ مزید یہ کہ موجودہ زمانہ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader