جہاد کا تصورِ اسلام میں
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
پرامن طریق کار کو ایسی فکری اور عملی تائیدات حاصل ہوگئی ہیں جنہوں نے پرامن طریق کار کو بذاتِ خود ایک انتہائی طاقتور طریق کار کی حیثیت دے دی ہے۔ ان جدید تائیدات میں بہت سی چیزیں شامل ہیں۔ مثلاً اظہارِ رائے کی آزادی کا حق ، جدید کمیونکیشن کے ذریعہ اپنی بات کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے کے امکانات ، میڈیا کی طاقت کو اپنے حق میں استعمال کرنا ، وغیرہ ۔ ان جدید تبدیلیوں نے پرامن طریق کار کو بیک وقت مقبول طریق کار بھی بنا دیا ہے اور اسی کے ساتھ زیادہ مؤثر طریق کار بھی۔ جیسا کہ عرض کیا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے کہ جب پرامن طریق کار عملاً دستیاب (available) ہو تو اسلامی جدوجہد میں صرف اسی کو اختیار کیا جائے گا ، اور پُر تشدد جدوجہد کو ترک کر دیا جائے گا۔ اب موجودہ صورت حال یہ ہے کہ زمانی تبدیلیوں کے نتیجہ میں پرامن طریق کار نہ صرف مستقل طور پر دستیاب ہے، بلکہ مختلف تائیدی عوامل (supporting factors) کی بنا پر وہ بہت زیادہ مؤثر حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ یہ کہنا بلا مبالغہ درست ہوگا کہ موجودہ زمانہ میں پُر تشدد طریق کار مشکل ہونے کے ساتھ عملاً بالکل غیر مفید ہے، اس کے مقابلے میں پرامن طریق کار آسان ہونے کے ساتھ انتہائی مؤثر اور نتیجہ خیز ہے۔ اب پرامن طریق کار کی حیثیت دو مکانی انتخابات (possible options) میں سے صرف ایک انتخاب کی نہیں ہے، بلکہ وہی واحد ممکن اور نتیجہ خیز انتخاب ہے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا بالکل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader