جہاد کا تصورِ اسلام میں
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
درست ہوگا کہ اب پرتشدد طریقہ کار عملاً متروک قرار پا چکا ہے ، یعنی وہی چیز جس کو شرعی زبان میں منسوخ کہا جاتا ہے۔ اب اہل اسلام کے لیے عملی طور پر ایک ہی طریقہ کار کا انتخاب باقی رہ گیا ہے ، اور وہ بلا شبہ پر امن طریقہ کار ہے ، الا یہ کہ صورتِ حال میں ایسی تبدیلی پیدا ہو جو دوبارہ حکم کو بدل دے۔ یہ صحیح ہے کہ پچھلے زمانہ میں بعض اوقات پرتشدد طریقہ کار کو اختیار کیا گیا ، مگر اس کی حیثیت زمانی اسباب کی بنا پر صرف ایک مجبوارنہ انتخاب کی تھی۔ اب جب کہ زمانی تبدیلیوں کے نتیجہ میں یہ مجبوری باقی نہیں رہی تو پرتشدد طریقہ کار کو اختیار کرنا بھی غیر ضروری اور غیر مسنون قرار پا گیا۔ اب نئے حالات میں صرف پر امن طریقہ کار کا انتخاب کیا جائے گا۔ موجودہ زمانہ میں اس معاملہ کی ایک سبق آموز مثال ہندوستانی لیڈر مہاتما گاندھی (وفات ۱۹۴۸) کی زندگی میں ملتی ہے۔ اسی زمانی تبدیلی کی بنا پر مہاتما گاندھی کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ ہندوستان میں ایک مکمل قسم کی سیاسی لڑائی لڑیں اور اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچائیں ۔ اور یہ سب کچھ شروع سے آخر تک عدم تشدد کا طریقہ (non-violent method) اور پر امن عمل (peaceful activism) کے اصول کو اختیار کر کے انجام پایا۔ فقہ کا یہ ایک معلوم اصول ہے کہ : تتغير الأحكام بتغير الزمان والمكان ( زمان اور مکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں ) اس مسلّمہ فقہی اصول کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader