Urdu book · اسلامی جہاد

اسلامی جہاد

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

تقاضا ہے کہ جب زمانی حالات بدل چکے ہوں تو شرعی احکام کا ازسر نو انطباق (re-application) تلاش کیا جائے ، تاکہ شرعی حکم کو زمانی حالات سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔ اس فقہی اصول کا تعلق جس طرح دوسرے معاملات سے ہے ، اسی طرح یقینی طور پر اس کا تعلق جنگ کے معاملہ سے بھی ہے۔ اس اصول کا بھی یہ تقاضا ہے کہ پر تشدد طریقہ کار کو اب عملاً متروک قرار دیا جائے اور صرف پر امن طریقہ کار کو شرعی جواز کا درجہ دیا جائے۔ موجودہ زمانہ کی جہادی تحریکیں موجودہ زمانہ میں اسلامی جہاد کے نام سے بہت سے ملکوں کے مسلمان مسلح جہاد کی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ مگر کوئی تحریک محض اس بنا پر جہاد کی تحریک نہیں ہوسکتی کہ اس کے عَلَم برداروں نے اس کو جہاد کا نام دے دیا ہو۔ کوئی عمل صرف اس وقت اسلامی جہاد قرار پاتا ہے جب کہ وہ اسلام کی مقرر کی ہوئی شرطوں پر پورا اترے۔ جہاد کی شرطوں کی تکمیل کے بغیر جو جہاد کیا جائے، وہ عملاً جہاد نہیں ہوگا بلکہ فساد ہوگا۔ جو لوگ اس کام میں مشغول ہوں، وہ اپنے اس کام پر جہاد کا انعام نہیں پائیں گے، بلکہ اللہ کی طرف سے وہ صرف سزا کے مستحق ہوں گے۔ جہاد بمعنی قتال کی شرطیں کیا کیا ہیں ، اس کو میں اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ لکھ چکا ہوں ۔ یہاں صرف ایک بات کا اظہار کرنا ضروری ہے ۔ وہ یہ کہ جہاد بمعنی قتال کی حیثیت نماز روزہ جیسے انفرادی عمل کی نہیں ہے ، بلکہ وہ ایک ایسا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page