موجودہ زمانہ کی جہادی تحریکیں
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
عمل ہے جس کا تعلق مکمل طور پر ریاست سے ہے۔ جہاد (بمعنی قتال) کی یہ اصولی حیثیت قرآن وحدیث کی مختلف نصوص سے واضح طور پر معلوم ہوتی ہے۔ مثلاً قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ دشمن کی طرف سے خوف کی صورت پیدا ہو تو اس کو لے کر خود سے اس کے خلاف کارروائی شروع نہ کردو بلکہ اس کو اولوالامر (ارباب حکومت) کی طرف لوٹاؤ، تاکہ وہ معاملہ کی صحیح نوعیت کو سمجھیں اور اس کے بارہ میں صحیح اور ضروری اقدام کریں (النساء ۸۳)۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ خوف (جنگی صورت حال) پیش آنے کی صورت میں عوام کے لیے خود سے اقدام کرنا جائز نہیں۔ وہ صرف یہ کر سکتے ہیں کہ معاملہ کو حاکم کے حوالہ کر دیں اور حاکم کی طرف سے جو اقدام کیا جائے اس میں اس کا ساتھ دیں۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ : انما الامام جنة، يقاتل من ورائه ويتقى به (صحيح البخاري، كتاب الجهاد والسير) یعنی بلا شبہ امام ڈھال ہے، قتال اس کی ماتحتی میں کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ حفاظت حاصل کی جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنگی دفاع ہمیشہ حاکم کی قیادت میں کیا جائے گا۔ عام مسلمانوں کا فرض صرف یہ ہوگا کہ وہ اپنے حاکم کی اتباع کریں اور اس کا ساتھ دے کر حکومت کے منصوبہ کو کامیاب بنائیں۔ فقہ میں یہ مسئلہ ایک متفق علیہ مسئلہ ہے جس میں غالباً کسی قابل ذکر عالم کا اختلاف نہیں۔ چنانچہ فقہاء کے متفقہ مسلک کے مطابق، جنگ کا اعلان صرف ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader