Urdu book · اسلامی جہاد

موجودہ زمانہ کی جہادی تحریکیں

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

قائم شدہ حکومت ہی کر سکتی ہے، غیر حکومتی عوام کو اس قسم کا اعلان کرنے کا حق نہیں ۔ اسی لیے فقہ میں یہ مسئلہ ہے کہ: الرحیل للإمام (جنگ کا اعلان کرنا صرف حاکم وقت کا کام ہے)۔ اصل یہ ہے کہ جنگ ایک انتہائی منظم عمل کا نام ہے۔ اس قسم کا منظم عمل صرف با اختیار حکومت ہی کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگی اقدام صرف حکومت کے لیے جائز ہے، عوام کے لیے جنگی اقدام کرنا سرے سے جائز ہی نہیں۔ موجودہ زمانہ میں مختلف مقامات پر مسلمان جہاد کے نام پر حکومتوں سے پر تشدد ٹکراؤ چھیڑے ہوئے ہیں۔ مگر تقریباً بلا استثناء ان میں سے ہر ایک کی حیثیت فساد کی ہے، نہ کہ اسلامی جہاد کی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اُن میں سے کوئی بھی ''جہاد‘‘ کسی حکومت کی طرف سے جاری نہیں کیا گیا ہے۔ آج کل کی زبان میں، ان میں سے ہر ایک جہاد غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کی طرف سے شروع کیا گیا اور انہی کی طرف سے ان کو چلایا جا رہا ہے۔ اگر ان میں سے کسی جہادی سرگرمی کو بالفرض کسی مسلم حکومت کا تعاون حاصل ہے تو یہ تعاون بلا اعلان صرف خفیہ انداز میں کیا جا رہا ہے، اور شریعت کے مطابق ، کسی مسلم حکومت کو بھی جہاد کا حق صرف اس وقت ہے کہ وہ با قاعدہ طور پر اس کا اعلان کرے (الأنفال: ۵۸)۔ اعلان کے بغیر کسی مسلم حکومت کے لیے بھی قتال کرنا جائز نہیں۔ موجودہ زمانہ میں مختلف علاقوں میں مسلمانوں کی طرف سے جہاد کے نام پر جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page