Urdu book · اسلامی جہاد

اسلامی جہاد

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

سرگرمیاں جاری ہیں ، آج کل کی زبان میں وہ دو قسم کی ہیں۔ یا تو اس کی حیثیت گوریلا وار (gorilla war) کی ہے ، یا پراکسی وار (proxy war) کی ۔ اور یہ دونوں ہی قسم کی جنگیں یقینی طور پر اسلام میں ناجائز ہیں۔ گوریلا وار اس لیے ناجائز ہے کہ وہ غیر حکومتی تنظیموں کی طرف سے چلائی جاتی ہے نہ کہ کسی قائم شدہ حکومت کی طرف سے ۔ اور پراکسی وار اس لیے ناجائز ہے کہ کوئی حکومت اس کو بلا اعلان جاری کرواتی ہے ، اور اعلان کے بغیر جنگ اسلام میں جائز نہیں۔ جہاد کی تین قسمیں اسلامی جہاد ایک مثبت اور مسلسل عمل ہے۔ وہ مومن کی پوری زندگی میں برابر جاری رہتا ہے۔ اس مجاہدانہ عمل کے تین بڑے شعبے ہیں۔ ۱۔ جہاد نفس۔ یعنی اپنے منفی جذبات اور اپنے اندر کی مطلوب خواہشات پر کنٹرول کرنا اور ہر حال میں اللہ کی پسندیدہ زندگی پر جمے رہنا۔ ۲۔ جہاد دعوت۔ یعنی اللہ کے پیغام کو تمام بندوں تک پہنچانا اور اس کے لیے یک طرفہ ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ بھر پور کوشش کرنا۔ یہ ایک عظیم کام ہے ، اس لیے اس کو قرآن میں جہاد کبیر کہا گیا ہے۔ ۳۔ جہاد اعداء۔ یعنی دین حق کے مخالفوں کا سامنا کرنا اور دین کو ہر حال میں محفوظ اور قائم رکھنا۔ یہ جہاد پہلے بھی اصلاً ایک پر امن عمل تھا۔ اور اب بھی وہ اصلاً ایک پر امن عمل ہے۔ اس اعتبار سے جہاد ایک پر امن جد و جہد ، ہے نہ کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page