Urdu book · اسلامی جہاد

رَدِ عمل اسلام میں نہیں

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

اُس عمل کا جواب نہیں۔ عمل کا حقیقی جواب یہ ہے کہ پہلے صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے، مثبت ذہن کے ساتھ نتیجہ خیز منصوبہ بندی کی جائے، پھر ٹکراؤ کے بجائے تعمیر کے اصول پر اپنے عمل کا آغاز کیا جائے۔ یہی صحیح اسلامی طریقہ ہے۔ جہاد اصغر، جہاد اکبر ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے واپس ہو کر مدینہ پہنچے تو آپ نے فرمایا: رجعنا من الجهاد الأصغر إلى الجهاد الأكبر (ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہیں) اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ ہم وقتی جہاد سے مستقل جہاد کی طرف واپس آئے ہیں: We have came back from temporary Jihad to غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وقتی جہاد سے مراد دفاعی جہاد (defencive jihad) ہے، جو کبھی کبھی پیش آتا ہے۔ اور مستقل جہاد سے مراد اسپرچول جہاد (spiritual jihad) ہے، جو ہر آدمی کی زندگی میں مستقل طور پر جاری رہتا ہے۔ اس بات کو ایک اور حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: جاهدوا أهوائكم كما تجاهدون أعدائكم۔ یعنی اپنی خواہشات سے جہاد کرو، جس طرح تم اپنے دشمن سے جہاد کرتے ہو۔ دشمن کے خلاف جہاد ایک وقتی چیز ہے، جو اُس وقت پیش آتا ہے جب کہ کسی نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page