Urdu book · اسلامی جہاد

رَدِ عمل اسلام میں نہیں

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

باقاعدہ طور پر ریاست کے اوپر حملہ کر دیا ہو۔ یہ دفاعی جہاد ہے، اور اس میں صرف کچھ تربیت یافتہ افراد حصہ لیتے ہیں، نہ کہ ساری مسلم کمیونٹی۔ اس کے برعکس، اپنے نفس کے خلاف جہاد ایک انفرادی نوعیت کی چیز ہے اور وہ ہرمومن کی زندگی میں جاری رہتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے اس دنیا میں ہر عمل کو کرنے کے لیے اپنے نفس کے ساتھ مقابلہ پیش آتا ہے۔ اپنے نفس سے کامیاب مقابلے کے بغیر کوئی آدمی جہادِ نفس کے کام کو انجام نہیں دے سکتا۔ مثال کے طور پر یہ ایک ثواب کا کام ہے کہ آپ جب کسی شخص سے ملیں تو ’السلام علیکم‘ (تمھارے اوپر سلامتی ہو) کہیں ۔ یہ کلمہ اتنا بڑا عمل ہے کہ اس کے کہنے پر حدیث میں جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں جب آدمی لوگوں کے ساتھ رہتا ہے تو بار بار اُس کو دوسروں کی طرف سے تلخ تجربات پیش آتے ہیں۔ اِس بنا پر ہر آدمی کے دل میں دوسروں کے خلاف شکایت کے جذبات موجود رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں حقیقی معنوں میں ’السلام علیکم‘ صرف وہ شخص کہہ سکتا ہے جو اس سے پہلے اپنے دل کو ہر قسم کے منفی جذبات سے پاک کرے اور اس کے بجائے اپنے دل کو لوگوں کے لیے خیر خواہی کے جذبات سے بھر دے۔ غور کیجئے تو یہ کام اتنا مشکل ہے کہ اس کے لیے وہی زبردست کوشش کرنی پڑے گی جس کو جہاد کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اِسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ : الحمد للہ تملأ المیزان (الحمد للہ کا کلمہ میزان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page