Urdu book · اسلامی جہاد

رَدِ عمل اسلام میں نہیں

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

کو بھر دیتا ہے) غور کیجئے تو یہ بھی کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سچا الحمد للہ کہنے کے لیے بہت بڑا ذہنی عمل درکار ہے۔ الحمد للہ کہنا، خدا کی نعمتوں پر شکر کا اظہار کرنا ہے۔ خدا کی یہ نعمتیں آدمی کو مسلسل طور پر لا تعداد صورتوں میں ملتی رہتی ہیں۔ یہ نعمتیں ہر آدمی کو اپنے آپ ملتی ہیں۔ چناں چہ آدمی ان کا عادی ہو جاتا ہے اور عادی ہونے کی بنا پر شعوری طور پر ان کو بطور نعمت محسوس نہیں کرتا۔ ایسی حالت میں الحمد للہ کہنے کے لیے ایک فکری جہاد کرنا پڑتا ہے۔ اُس کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ اپنی تفکیری قوتوں کو عمل میں لا کر غیر شعور کو اپنے شعور میں لائے۔ اپنے جذبات کی نئی رُخ بندی کرے۔ وہ اپنی فکری قوتوں کو بیدار کرنے کے لیے مجاہد بن جائے۔ اِس کے بعد ہی اس کی زبان سے وہ کلمۂ حمد نکلتا ہے جو میزان کو بھر دینے والا کلمہ ہے۔ آدمی کے اندر طرح طرح کی خواہشیں ہیں ؀ حرص، علو پسندی، دوسرے کو حقیر سمجھنا، بے صبری، غصہ اور انتقام، وغیرہ۔ آدمی ہر وقت اِن منفی جذبات کے تابع رہتا ہے۔ اِسی کے ساتھ وہ کچھ چیزوں کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ مثلاً دولت، شہرت اور اولاد، وغیرہ۔ آدمی کی یہ بے پناہ خواہش ہوتی ہے کہ یہ تمام چیزیں اس کو بھر پور طور پر حاصل ہو جائیں۔ نفرت اور محبت کے یہ مختلف جذبات، آدمی کے اوپر ہر وقت چھائے رہتے ہیں، وہ جو کچھ سوچتا ہے، اِنھیں جذبات سے مغلوب ہو کر سوچتا ہے۔ وہ شعوری یا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page