Urdu book · اسلامی جہاد

اسلامی جہاد

Urdu book, p. 3

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ اس وقت، باعتبارِ استعمال نہ کہ باعتبارِ لغت، اس میں محاربَہ کا مفہوم بھی شامل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ امام راغب اصفہانی نے استعمال کی نسبت سے جہاد کی تین قسمیں بتائی ہیں: ظاہری دشمن سے مقابلہ اور شیطان سے مقابلہ اور نفس سے مقابلہ (والجہاد ثلاثة اضرب: مجاهدة العدو الظاهر، ومجاهدة الشيطان، ومجاهدة النفس)۔ جہاد قرآن میں قرآن میں بھی جہاد یا اس کے مشتقات اسی معنی میں آئے ہیں جس معنی میں وہ لغتِ عرب میں استعمال ہوتے ہیں، یعنی کسی مقصد کے لئے مبالغہ آمیز کوشش کرنا۔ لفظ ’’جہاد‘‘ قرآن میں چار بار استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ یہ لفظ کوشش اور جد و جہد کے معنی میں ہے نہ کہ براہِ راست طور پر جنگ و قتال کے معنی میں۔ اس سلسلہ میں پہلی قرآنی آیت کا ترجمہ یہ ہے: کہو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا خاندان اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو، یہ سب تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم بھیج دے اور اللہ نافرمان لوگوں کو راستہ نہیں دیتا۔ (التوبہ: ۲۴) اس آیت میں اہل اسلام کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ قربانی کی حد تک جا کر اسلام کے دعوتی مشن میں پیغمبر کا ساتھ دیں۔ خواہ اس کام میں ان کے ذاتی مفادات مجروح ہوں یا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page