Urdu book · اسلامی جہاد

اسلامی جہاد

Urdu book, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

مال اور تجارت کا نقصان ہو یا جسمانی مشقتیں برداشت کرنی پڑیں، ہر حال میں وہ اس دعوتی مشن میں پیغمبر کے ساتھی بنے رہیں۔ اس آیت میں جہاد فی سبیل اللہ کا لفظ اصلاً پیغمبر کے دعوتی مشن کے لئے آیا ہے نہ کہ جنگ کے لئے۔ قرآن کی دوسری سورہ میں حکم دیا گیا ہے کہ: تم منکرین کی بات نہ مانو اور ان کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرو (الفرقان ۵۲)۔ اس آیت میں واضح طور پر جہاد سے مراد دعوتی جہاد ہے۔ کیوں کہ قرآن کے ذریعہ جہاد کا کوئی دوسرا مطلب نہیں ہوسکتا۔ یہ لفظ تیسری جگہ قرآن میں اس طرح آیا ہے : ان كنتم خرجتم جهادا فی سبیلی وابتغاء مرضاتی (الممتحنه :۱) یعنی اگر تم میری راہ میں جہاد اور میری رضا مندی کی طلب کے لئے نکلے ہو۔ یہ آیت فتح مکہ سے کچھ پہلے اتری۔ مدینہ سے مکہ کا سفر جنگ کے لئے نہ تھا۔ وہ دراصل ایک پرامن مارچ تھا جو صلح حدیبیہ کی صورت میں نکلنے والے پرامن نتائج کو حاصل کرنے کے لئے کیا گیا۔ چنانچہ اس موقع پر ایک مسلمان کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: اليوم يوم الملحمة (آج کا دن لڑائی کا دن ہے) یہ سن کر رسول اللہ نے فرمایا کہ نہیں، آج کا دن رحمت کا دن ہے: اليوم يوم المرحمة۔ چوتھی بار قرآن میں یہ لفظ اس طرح آیا ہے: وجاهدوا فی الله حق جهاده (الحج: ۷۸) یعنی اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کا حق ہے۔ اس آیت میں جہاد سے مراد دعوتی جہاد ہے۔ یہ حقیقت اس کے سیاق سے بالکل واضح ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page