جہاد کیا ہے
Urdu book, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
جہاد کیا ہے جہاد کیا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان جہاد کے نام پر جو کچھ کر رہے ہیں، وہ جہاد نہیں ہے۔ یہ سب قومی جذبات کے تحت چھڑی ہوئی لڑائیاں ہیں جن کو غلط طور پر جہاد کا نام دے دیا گیا ہے۔ جہاد اصلاً پر امن جد و جہد کا نام ہے، وہ قتال کے ہم معنی نہیں۔ کبھی تو وسیعی استعمال کے طور پر جہاد کو قتال کے مفہوم میں بولا جاتا ہے۔ مگر لغوی مفہوم کے اعتبار سے جہاد اور قتال دونوں ہم معنی الفاظ نہیں۔ یہاں اس سلسلہ میں قرآن وحدیث سے جہاد کے بعض استعمالات درج کئے جاتے ہیں: ۱۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا (العنكبوت (٦٩) یعنی جن لوگوں نے جہاد کیا ہماری خاطر تو ہم اُن کو اپنی راہیں دکھائیں گے ۔ اس آیت میں تلاش حق کو جہاد کہا گیا ہے، یعنی اللہ کو پانے کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی معرفت حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی قربت ڈھونڈھنے کے لیے کوشش کرنا۔ ظاہر ہے کہ اس جہاد کا قتال یا ٹکراؤ سے کوئی تعلق نہیں۔ ۲۔ اسی طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وجاهدوا بأموالهم (الحجرات (۱۵) یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے مال سے جہاد کیا۔ اس آیت کے مطابق، اپنے مال کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنا ایک جہادی عمل ہے۔ ۳۔ اسی طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وجاهدهم به جهاداً كبيرا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader