اسلامی اخلاق
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
اعلیٰ ظرفی ایک شخص نے ٹیکسی کرایہ پر لی۔ جب وہ سفر پور اتر کر اترا تو ٹیکسی والے نے پچاس روپیہ کرایہ بتایا۔ اب اگر مسافر کی جیب میں صرف پچاس روپیے ہوں تو وہ ٹیکسی والے سے جھگڑا کرے گا۔ کیوں کہ وہ ڈرے گا کہ اس کو دے کر میں خالی ہو جاؤں گا۔ اس کے بعد میرے پاس کچھ نہیں رہے گا۔ وہ ٹیکسی والے سے کہے گا کہ تم نے کرایہ زیادہ بتایا ہے۔ مگر جس شخص کے بیگ میں پچاس ہزار روپیہ کے نوٹوں کے بنڈل بھرے ہوئے ہوں وہ کبھی پچاس روپیہ کے لئے جھگڑا نہیں کر سکتا۔ وہ فوراً ٹیکسی والے کو اس کا کرایہ ادا کر کے آگے بڑھ جائے گا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو شخص بڑی چیز پائے ہوئے ہو وہ کبھی چھوٹی چیز کے لئے جھگڑا نہیں کرتا۔ کم ظرفی چھوٹی یافت کا نتیجہ ہے اور عالی ظرفی بڑی یافت کا نتیجہ۔ خدا بلا شبہ سب سے بڑی حقیقت ہے۔ وہ تمام خوبیوں اور کمالات کا خزانہ ہے۔ جو شخص خدا کو پاتا ہے وہ گویا سب سے بڑی چیز کو پاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا دل سب سے بڑا دل بن جاتا ہے۔ اس کے اندر کھونے کو برداشت کرنے کی اٹھاہ طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے اندر یہ مزاج آ جاتا ہے کہ وہ اونچی سطح سے لوگوں کے ساتھ معاملہ کر سکے۔ اس کے اندر سے تنگ ظرفی کا مزاج ختم ہو جاتا ہے۔ لوگ اس کے ساتھ معاملہ کرنے میں اس کو اعلیٰ ظرف پاتے ہیں۔ وہ کردار اور اخلاق کے اعتبار سے ایک اونچا انسان بن جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اِنَّكَ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader