اسلامی اخلاق
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم) یقیناً تم اعلیٰ اخلاق پر ہو۔ اعلیٰ اخلاق جوابی اخلاق نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اصول کی بنیاد پر بنتا ہے۔ آدمی دوسروں کے ساتھ جو کچھ کرتا ہے یہ دیکھ کر نہیں کرتا کہ دوسرے لوگ اس کے ساتھ کیا کر رہے ہیں بلکہ یہ سوچ کر کرتا ہے کہ بہ اعتبارِ اصول اس کا رویہ کیا ہونا چاہئے اور کیا نہیں ہونا چاہئے۔ لوگوں کے درمیان اس کا سلوک لوگوں کی روش کے تابع نہیں ہوتا بلکہ خود اپنے معیار اخلاق کے تابع ہوتا ہے۔ یہی بات ہے جو حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے : عنْ حُذَيْفَةَ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تكونوا اِمّعَةً تقولون إنْ احسن الناس أحسَنَّا وإنْ ظلموا اً ظَلمنا ولكنْ وَطِّنُوا أنْفسَكُم إنْ احسَنَ النّاسُ اَنْ تُحْسِنُوا وَ إنْ اَسَأُوُا فَلا تَظْلِمُوا (مشکوۃ، باب الظلم) صفحہ ۱۴۱۸ اسی بات کو ایک اور حدیث میں اس حضرت حذیفہ رض کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ لوگو ، اِمَّعَة نہ بنو۔ تم یہ کہنے لگو کہ اگر لوگ اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی اچھا سلوک کریں گے۔ اور اگر لوگ برا برتاؤ کریں گے تو ہم بھی بر برتاؤ کریں گے۔ بلکہ تم اپنے آپ کو تیار کرو کہ اگر لوگ اچھا سلوک کریں تب بھی تم ان سے اچھا سلوک کرو۔ اور اگر وہ بر اسلوک کریں تو تم خود ان کے ساتھ ظلم نہ کرو۔ طرح بتایا گیا ہے: عن عقبة بن عامر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أُخْبِرُك بافضل اخلاق اهل الدنيا والآخرة حضرت عقبہ رضہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو دنیا اور آخرت کے لوگوں کا بہترین اخلاق نہ بتاؤں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader