اسلامی اخلاق
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
قال نعم ۔ قال تصل من قطعك و کہا کہ ہاں۔ فرمایا کہ جو تم سے کٹے اس سے تعطی من حرمك وتصفوا عمن جُڑو۔ جو تم کو محروم کرے تم اسے دو۔ اور جو ظلمك ( البيهقی ) شخص تم پر ظلم کرے اس کو تم معاف کر دو۔ اسی لئے مذکورہ آیت ( اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ ) کی تشریح یہ کی گئی ہے کہ اس سے مراد خدا کے اُس حکم پر قائم ہونا ہے جو دوسرے مقام پر ان الفاظ میں آیا ہے: عفو و درگذر کا طریقہ اختیار کرو اور معروف کی تلقین کرو اور جاہلوں سے اعراض کرو۔ رقيل هو ما امره الله تعالیٰ به في قوله: خذ العفو وأمر بالعرف واعرض عن الجاهلين، تفسیر نسفی جلد ۳ ، صفحه ۳۷۹ ) یعنی جہاں لوگ دوسروں سے بدلہ لیتے ہیں وہاں تم دوسروں کو معاف کر دو۔ جہاں لوگ دوسروں کے در میان برائی پھیلاتے ہیں وہاں تم نیکی پھیلاؤ۔ جہاں لوگ دوسروں سے الجھ جاتے ہیں وہاں تم نظر انداز کر کے گزر جاؤ۔ اخلاق کی دو قسمیں اسلامی نقطہ نظر سے اخلاق کی دو قسمیں ہیں۔ ایک پست اخلاق ۔ دوسرے ، اعلیٰ اخلاق ۔ پست اخلاق کا کوئی مستقل اصول نہیں ہوتا جس کا ہمیشہ لحاظ کیا جائے۔ وہ حالات کے لحاظ سے بنتا ہے۔ اسی لئے وہ کبھی کچھ ہوتا ہے اور کبھی کچھ ۔ جس موقع پر جس قسم کے جذبات آدمی کے اندر ابھرے وہی اخلاق اور کردار کی صورت میں ڈھل گئے ۔ کسی کو اپنے سے کم دیکھا تو اس کو حقیر سمجھ لیا اور کسی کو اپنے سے زیادہ پایا تو اس کے خلاف حسد کرنے لگے۔ کسی سے فائدہ نظر آیا تو اس کے دوست بن گئے اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader