اسلامی اخلاق
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی کو دیکھا کہ اس سے اپنا کوئی فائدہ وابستہ نہیں ہے تو اس سے بے رخی اختیار کرلی، کسی نے اچھا سلوک کیا تو اس کے لئے اچھے بن گئے۔ اور کسی نے بر اسلوک کیا تو اس کے ساتھ برائی کرنا شروع کر دیا۔ اتفاق سے کوئی بڑی حیثیت حاصل ہوگئ تو گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے ۔ اور اگر کوئی بڑی حیثیت نہیں ملی تو مایوسی کا شکار ہوگئے۔ کسی سے خوش ہوگئے تو اس کے ساتھ غیاضی کرنے لگے اور اگر کسی سے نا خوش ہوئے تو اس کے لئے اپنے دروازے بند کرلے ۔ کسی کو اپنے موافق پایا تو اس کی تعریف کرنے لگے ۔ اور اگر کسی سے نا موافقت ہو گئی تو سمجھ لیا کہ اس سے زیادہ برا کوئی آدمی نہیں۔ یہ سب پست اخلاق کے طریقے ہیں۔ اور مومن کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ پست طریقے سے بچے اور اعلی اخلاقی طریقے اختیار کرے۔ اخلاق کی بلندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اعلیٰ اخلاق پر قائم تھے۔ اور آپ کا یہی مشن تھا کہ لوگوں کو اعلیٰ اخلاق اختیار کرنے کی تلقین کریں ۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے ارشاد فرمایا : عن مالک انہ بلغہ ان رسول اللہ حضرت امام مالکؒ کہتے ہیں کہ انھیں یہ بات صلی اللہ علیہ وسلم قال : بعثت پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ حسن لا تمم حسن الاخلاق اخلاق کی تکمیل کروں ۔ (موطا الامام مالک) یہ روایت مختلف طریقوں سے آئی ہے۔ کسی میں حسن الاخلاق کا لفظ ہے، کسی میں صالح الاخلاق کا اور کسی میں مکارم الاخلاق کا ۔ وہ مکارم اخلاق کیا ہیں جن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader