Urdu book · اسلامی تعلیمات

اسلامی اخلاق

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

کی دعوت اور اقامت کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔ اس کی وضاحت دوسری روایت سے ہوتی ہے: ثَلَاثَةٌ مِنْ مَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ عِنْدَ اللَّهِ تین چیزیں اللہ کے نزدیک اعلیٰ اخلاق أَنْ تَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَكَ وَتُعْطِيَ مَنْ حَرَمَكَ سے ہیں ۔ یہ کہ جو شخص تم پر ظلم کرے تم اس کو وَتَصِلَ مَنْ قَطَعَكَ معاف کر دو ۔ اور جو شخص تم کو محروم کرے تم (الجامع الصغیر، للسيوطی) اس کو دو ۔ اور جو شخص تم سے کٹے تم اس سے جڑو۔ گویا اعلیٰ اخلاق وہ ہے جس میں آدمی فریق ثانی کی روش سے بلند ہو کر اس سے معاملہ کرے ۔ وہ فریق ثانی کے رویہ سے متاثر ہوئے بغیر اس سے اچھی طرح پیش آئے ۔ اس کا اخلاق مثبت اخلاق ہو نہ کہ جوابی اخلاق۔ قابل اعتماد اخلاق ایک انجینئر جب لوہے کا پل بناتا ہے تو اس کو یقین ہوتا ہے کہ لوہا اس بوجھ کو بھر پور طور پر سنبھالے گا جس کو سنبھالنے کے لئے پل بنایا گیا ہے۔ انجینئر کو اگر لوہے کی اس خصوصیت پر یقین نہ ہو تو وہ کبھی لوہے کا پل بنانے کی ہمت نہ کرے۔ اسی طرح تمام مادی چیزوں میں کچھ متعین خواص (Properties) ہیں۔ یہ خواص اتنے یقینی ہیں کہ نہایت صحت کے ساتھ ان کی پیشین گوئی کی جاسکتی ہے۔ مادے کے خواص کی اسی قطعیّت کی بنا پر تمدن کا سارا نظام چل رہا ہے ۔ اگر مادی چیزیں اپنے خواص کو کھو دیں تو انسانی تمدن کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ مادہ کے لئے خواص کی جو اہمیت ہے وہی اہمیت انسانی زندگی کے لئے اخلاق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page