Urdu book · اسلامی تعلیمات

اسلامی اخلاق

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

کی ہے۔ اخلاق کی مضبوطی ہی وہ واحد چیز ہے جس پر سماجی زندگی کا نظام کھڑا ہوتا ہے۔ اگر لوگوں کے اندر اخلاقی مضبوطی باقی نہ رہے تو کبھی انسانی زندگی کی ٹھوس تعمیر ممکن نہ ہو۔ بہتر سماجی زندگی کے لئے ضروری ہے کہ اس کے افراد قابل پیشین گوئی کردار کے حامل ہوں۔ ایک شخص سے معاملہ کرتے ہوئے یہ یقین کیا جاسکے کہ وہ جو کہے گا اس اس کو وہ ضرور پورا کرے گا۔ ایک شخص کے سامنے ایک ثابت شدہ حق کو پیش کیا جائے تو ایسا ہونا چاہئے کہ ہم پیشگی طور پر یہ یقین کر سکیں کہ وہ اس کو ضرور قبول کرے گا۔ ایک شخص سے شکایت اور اختلاف ہو جائے تو یہ فضا ہونی چاہئے کہ ہم یہ یقینی اندازہ کر سکیں کہ وہ انصاف سے ہٹ کر کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔ ایسے سماج کا انسان گویا لوہا انسان (لوہ پرشش) ہے۔ وہ حدیدی کردار کا حامل ہے۔ اس سے ازروئے حق جو امید کی جاتی ہے وہ اس میں پورا اترتا ہے۔ جس سماج کے افراد ایسے ہوں اس سماج کی ترقی کو کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ جس سماج کی حالت اس کے خلاف ہو جائے وہ ایک برباد سماج ہے۔ جہاں افراد کا حال یہ ہو کہ وہ اپنے وعدوں پر پورے نہ اتریں۔ ان کے سامنے حق آئے مگر وہ اس کو قبول نہ کریں۔ ان کو کسی سے شکایت ہو جائے تو وہ اس کے خلاف ہر کارروائی کرنے کے لئے تیار ہو جائیں ، خواہ وہ کتنی ہی زیادہ انصاف اور انسانیت کے خلاف کیوں نہ ہو۔ جس سماج کی اخلاقی حالت ایسی ہو جائے وہ اس دنیا کی مانند ہے جہاں لوہے نے اپنا لوہا پن کھودیا ، جہاں پتھر پتھر نہ رہا ، بلکہ وہ دیک زدہ لکڑی کی طرح بے جان ہو گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page