Urdu book · اسلامی تعلیمات

اسلامی اخلاق

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

قدرت کے باوجود سب سے زیادہ سخت امتحان آدمی کا اس وقت ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخالف پر قابو پا جائے ۔ جب اس کا دشمن پوری طرح اس کی گرفت میں آ چکا ہو۔ ایسے موقع پر آدمی اپنی ساری طاقت استعمال کر کے اپنے مخالف کو نہیں ڈالتا ہے۔ ایسے دشمن کے معاملہ میں آدمی اپنی کوئی اخلاقی ذمہ داری نہیں سمجھتا جو پوری طرح اس کے قبضہ میں آ چکا ہو۔ مگر اللہ سے ڈرنے والے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس وقت بھی خدا اس کے سامنے آکر کھڑا ہو جاتا ہے۔ خدا کی طاقت کا احساس اس کے ذہن پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ انسان کی کمزوری اسے بھول جاتی ہے۔ وہ اپنے دشمن کو معاف کر دیتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ یہی وہ موقع ہے جب کہ وہ اپنے دشمن کو معاف کر کے اپنے آپ کو عبدیت کے بلند ترین مرتبہ پر پہنچا سکتا ہے : عن ابي هريرة قال قال رسول الله حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی صلی الله عليه وسلم قال قَالَ مُوسَى بْنُ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام عمران علیہ السلام يَا رَبِّ مَنْ أَعَزُّ نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ اے میرے رب، عِبَادِكَ عِنْدَكَ ۔ قَالَ مَنْ إِذَا قَدَرَ تیرے بندوں میں تیرے نزدیک سب غَفَرَ (البيهقی) سے زیادہ معزز بندہ کون ہے۔ اللہ نے فرمایا: وہ شخص جو قدرت پانے کے بعد معاف کر دے ۔ غصہ نہیں جو چیز اخلاق کی سب سے بڑی قاتل ہے وہ غصہ ہے۔ عام حالات میں اکثر لوگ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page