اسلامی اخلاق
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
صحیح رہتے ہیں۔ مگر جب ایک آدمی کو کسی بات پر غصہ آجاۓ تو اس کے بعد وہ قابو سے باہر ہو جاتا ہے۔ اس وقت وہ بھول جاتا ہے کہ کوئی اخلاقی اصول ہے جس کو اسے ہر حال میں برتنا چاہئے۔ اس دنیا میں صرف ایک ہی چیز ہے جو غصہ اور اشتعال کی حالت میں آدمی کو حد کے اندر رکھ سکتی ہے، اور وہ خدا کا خوف ہے۔ اگر آدمی کے دل میں واقعۃً خدا کی عظمت بیٹھ جائے اور وہ جان لے کہ خدا اس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لے گا تو یہ احساس اس کے اوپر ایک قسم کی لگام لگا دیتا ہے۔ خدا کا ڈراسے مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک حد سے آگے نہ جانے دے۔ اسی لئے قرآن میں خدا کے مومنیں کی صفت یہ بتائی گئی ہے: وَاِذَا مَا غَضِبُواهُمْ يَغْفِرُونَ (الشوریٰ) جب انھیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں خدا سے ڈرنے والوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ انھیں جب انسانوں کی طرف سے غصہ آتا ہے تو خدا کا تصور سامنے آکر ان کے غصہ کو دبا دیتا ہے۔ وہ انسان کے رویہ سے مشتعل ہوتے ہیں، مگر خدا کی پکڑ کا اندیشہ انھیں ٹھنڈا کر دیتا ہے۔ غصہ کے سلسلے میں چند حدیثیں یہ ہیں: عن ابی ہریرۃ ان رجلا قال للنبی حضرت ابو ہریرہ رض کہتے ہیں کہ ایک شخص نے صلى الله عليه وسلم اوصنی قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مجھے نصیحت لا تغضب۔ فرد ذالك مراراً قال کیجئے آپ نے فرمایا غصہ نہ کر۔ آدمی نے بار بار لا تغضب (صحیح بخاری) پوچھا۔ آپ نے ہر بار فرمایا کہ غصہ نہ کر۔ عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ حضرت ابو ہریرہ رض کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ليس الشديد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلوان وہ نہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader